اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبروں اور ان کے ساتھ ایمان لانے والوں کے بارے میں بتا رہے ہیں کہ جب ان کی قومیں عذاب کی مستحق ہو جاتی ہیں، تو اللہ اپنے پیغمبروں اور ان کے ساتھ ایمان لانے والوں کو اس عذاب سے محفوظ رکھتا ہے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے جو ہر زمانے میں جاری رہا ہے۔ جس طرح پچھلی امتوں میں اللہ نے اپنے پیغمبروں کو نجات دی، اسی طرح آپ ﷺ اور آپ پر ایمان لانے والوں کو بھی اللہ نجات دے گا۔
یہ نجات اللہ کا فضل اور رحمت ہے، جو اس نے اپنے اوپر لازم کر لی ہے۔ یعنی اللہ کی سنت یہ ہے کہ وہ اپنے مخلص بندوں کو آزمائشوں اور عذاب سے بچاتا ہے۔ یہ کوئی اتفاقی بات نہیں، بلکہ اللہ کا ثابت شدہ وعدہ ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑی خوشخبری ملتی ہے کہ ایمان والوں کے لیے اللہ کی حفاظت یقینی ہے۔ اگر آپ سچے دل سے ایمان لائیں اور نیک عمل کریں، تو اللہ آپ کو ہر مشکل سے نکالے گا۔ یہ وعدہ صرف پیغمبروں کے ساتھ نہیں، بلکہ ہر اس شخص کے ساتھ ہے جو ایمان لائے اور نیک بنے۔ آج بھی جو لوگ اللہ پر بھروسہ رکھتے ہیں اور اس کی راہ پر چلتے ہیں، اللہ انہیں تنگیوں سے نکال کر کشادگی عطا فرماتا ہے۔ یہ ایمان کی برکت ہے کہ اللہ اپنے بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اپنے ایمان کو مضبوط کریں اور اللہ کے وعدوں پر پورا یقین رکھیں، کیونکہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور وہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔
(اے پیغمبر) کہہ دو کہ لوگو اگر تم کو میرے دین میں کسی طرح کا شک ہو تو (سن رکھو کہ) جن لوگوں کی تم خدا کے سوا عبادت کرتے ہو میں ان کی عبادت نہیں کرتا۔ بلکہ میں خدا کی عبادت کرتا ہوں جو تمھاری روحیں قبض کرلیتا ہے اور مجھ کو یہی حکم ہوا ہے کہ ایمان لانے والوں میں ہوں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔