تو جب ان کے پاس ہمارے ہاں سے حق آیا تو کہنے لگے کہ یہ تو صریح جادو ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
الحق: وہ چیز جو یقینی اور سچ ہو، یہاں مراد وہ معجزات اور دلائل ہیں جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ آئے۔
سحر مبین: واضح اور ظاہر جادو۔
تفسیر:
جب فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کے پاس ہمارے پاس سے حق آیا، یعنی وہ روشن معجزات اور نشانیاں جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذریعے ظاہر ہوئیں، اور انہوں نے انہیں خوب پہچان لیا کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے، تب بھی انہوں نے اپنی سرکشی اور ضد کی وجہ سے یہ کہا کہ یہ جو کچھ موسیٰ لے کر آیا ہے، یہ تو صرف کھلا ہوا جادو ہے۔ حالانکہ وہ جانتے تھے کہ یہ جادو نہیں بلکہ حقیقت ہے، لیکن اپنے تکبر اور دنیاوی مفادات کی خاطر انہوں نے حق کو جھٹلایا اور اسے جادو کا نام دے دیا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ انسان جب حق کو پہچان لے تو اسے فوراً قبول کر لینا چاہیے، چاہے اسے اپنی خواہشات اور مفادات پر بھاری کیوں نہ پڑے۔ فرعون اور اس کی قوم نے حق کو پہچاننے کے باوجود اسے جادو کہہ کر رد کر دیا، اور یہی ان کی ہلاکت کا سبب بنا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم حق کو قبول کرنے میں کبھی تاخیر نہ کریں، کیونکہ حق قبول کرنے میں ہی دنیا اور آخرت کی بھلائی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو پہچاننے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
پھر نوح کے بعد ہم نے اور پیغمبر اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجے۔ تو وہ ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے۔ مگر وہ لوگ ایسے نہ تھے کہ جس چیز کی پہلے تکذیب کرچکے تھے اس پر ایمان لے آتے۔ اسی طرح ہم زیادتی کرنے والوں کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں
وہ بولے کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ جس (راہ) پر ہم اپنے باپ دادا کو پاتے رہے ہیں اس سے ہم کو پھیردو۔ اور (اس) ملک میں تم دونوں کی ہی سرداری ہوجائے اور ہم تم پر ایمان لانے والے نہیں ہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔