یونس · 77/109
ترجمہ تلفظ — یونس
قَالَ مُوسَىٰ أَتَقُولُونَ لِلْحَقِّ لَمَّا جَاءَكُمْ ۖ أَسِحْرٌ هَٰذَا وَلَا يُفْلِحُ السَّاحِرُونَ ۝٧٧
Qaalaa Moosaaa ataqooloona lilhaqqi lammmaa jaaa`a kum asihrun haazaa wa laa yuflihus saabiroon
📖 اردو ترجمہ
موسیٰ نے کہا کیا تم حق کے بارے میں جب وہ تمہارے پاس آیا یہ کہتے ہو کہ یہ جادو ہے۔ حالانکہ جادوگر فلاح نہیں پانے کے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • لِلْحَقِّ: حق اور سچائی کے لیے۔
  • لَمَّا جَاءَكُمْ: جب وہ تمہارے پاس آچکا۔
  • أَسِحْرٌ: کیا یہ جادو ہے؟
  • لَا يُفْلِحُ السَّاحِرُونَ: جادوگر کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔

تفسیر:

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب فرعون اور اس کی قوم کے سامنے معجزات پیش کیے اور انہوں نے انہیں جادو قرار دے کر رد کرنے کی کوشش کی، تو موسیٰ علیہ السلام نے ان کے اس رویے پر تعجب اور انکار کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: "کیا تم اس حق کے بارے میں یہ کہتے ہو جب وہ تمہارے پاس آچکا ہے؟ کیا یہ جادو ہے؟" یعنی تمہارے پاس جو واضح حق اور روشن حقیقت آچکی ہے، اسے تم جادو کہہ کر جھٹلا رہے ہو؟ یہ تمہاری عقل اور بصیرت پر بڑا تعجب ہے کہ حق کو دیکھ کر بھی اسے جادو قرار دے رہے ہو۔

پھر موسیٰ علیہ السلام نے ایک اور دلیل پیش کی کہ جادوگر کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔ جادو ایک باطل چیز ہے اور باطل کا انجام ہمیشہ ناکامی ہے۔ اگر یہ جادو ہوتا تو اس کا انجام بھی جادوگروں جیسا ہی ہوتا، لیکن یہ حق ہے، اس لیے اس کا انجام کامیابی اور فتح ہے۔ یہ بات اس وقت ثابت ہوئی جب موسیٰ علیہ السلام نے اپنا عصا پھینکا اور وہ سانپ بن کر جادوگروں کے جھوٹے سانپوں کو نگل گیا، اور جادوگر خود سجدے میں گر گئے اور ایمان لے آئے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں ایک عظیم سبق ملتا ہے کہ حق کو قبول کرنے میں کبھی تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ جب حق واضح ہو جائے تو اسے فوراً قبول کرنا چاہیے، چاہے وہ ہمارے مفادات کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ فرعون اور اس کی قوم نے حق کو جادو کہہ کر رد کیا، لیکن جادوگر خود جب حق کو پہچان گئے تو انہوں نے فوراً ایمان قبول کر لیا اور سجدے میں گر گئے۔ یہ ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے کہ حق کو قبول کرنے میں کبھی تکبر اور ضد نہیں کرنی چاہیے۔

آج بھی بہت سے لوگ قرآن اور سنت کے واضح حقائق کو دیکھ کر بھی انہیں رد کر دیتے ہیں، یا انہیں پرانا اور فرسودہ کہہ کر جھٹلا دیتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ حق کبھی پرانا نہیں ہوتا، حق ہمیشہ تازہ اور روشن رہتا ہے۔ جادوگر جیسے باطل کے پیروکار بھی جب حق کو پہچان گئے تو انہوں نے فوراً اسے قبول کر لیا، تو ہمیں بھی چاہیے کہ حق کو دیکھتے ہی اسے قبول کر لیں اور اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کو چھوڑ دیں۔

یاد رکھیں، جادوگر کبھی کامیاب نہیں ہوتے، لیکن حق کے پیروکار ہمیشہ کامیاب ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ حق کو سربلند کیا ہے اور باطل کو نیست و نابود کیا ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم ہمیشہ حق کے ساتھ رہیں، چاہے حالات کیسے بھی ہوں، کیونکہ حق کی فتح یقینی ہے اور باطل کا انجام ہمیشہ ذلت اور ناکامی ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 75-79 — یونس

75ثُمَّ بَعَثْنَا مِن بَعْدِهِم مُّوسَىٰ وَهَارُونَ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِ بِآيَاتِنَا فَاسْتَكْبَرُوا وَكَانُوا قَوْمًا مُّجْرِمِينَ
پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ گنہگار لوگ تھے
76فَلَمَّا جَاءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِندِنَا قَالُوا إِنَّ هَٰذَا لَسِحْرٌ مُّبِينٌ
تو جب ان کے پاس ہمارے ہاں سے حق آیا تو کہنے لگے کہ یہ تو صریح جادو ہے
77قَالَ مُوسَىٰ أَتَقُولُونَ لِلْحَقِّ لَمَّا جَاءَكُمْ ۖ أَسِحْرٌ هَٰذَا وَلَا يُفْلِحُ السَّاحِرُونَ
موسیٰ نے کہا کیا تم حق کے بارے میں جب وہ تمہارے پاس آیا یہ کہتے ہو کہ یہ جادو ہے۔ حالانکہ جادوگر فلاح نہیں پانے کے
78قَالُوا أَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا وَتَكُونَ لَكُمَا الْكِبْرِيَاءُ فِي الْأَرْضِ وَمَا نَحْنُ لَكُمَا بِمُؤْمِنِينَ
وہ بولے کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ جس (راہ) پر ہم اپنے باپ دادا کو پاتے رہے ہیں اس سے ہم کو پھیردو۔ اور (اس) ملک میں تم دونوں کی ہی سرداری ہوجائے اور ہم تم پر ایمان لانے والے نہیں ہیں
79وَقَالَ فِرْعَوْنُ ائْتُونِي بِكُلِّ سَاحِرٍ عَلِيمٍ
اور فرعون نے حکم دیا کہ سب کامل فن جادوگروں کو ہمارے پاس لے آؤ
یونسقرآن فہرست
109آیت
مکیRevelation
77آیت

ترجمہ — یونس 77

سورہ یونس آیت 77 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : موسیٰ نے کہا کیا تم حق کے بارے میں جب…

سورہ آیت 77/109 — یونس يونس (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: یونس سنیں, یونس ترجمہ, یونس mp3, یونس pdf. آیت 75–79. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں