Wa jaawaznaa bi Baneee Israaa`eelal bahra fa atba`ahum Fir`awnu wa junooduhoo baghyanw wa `adwan hattaaa izaaa adrakahul gharaqu qaala aamantu annnahoo laaa ilaaha illal lazeee aamanat bihee Banooo Israaa`eela wa ana minal muslimeen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار کردیا تو فرعون اور اس کے لشکر نے سرکشی اور تعدی سے ان کا تعاقب کیا۔ یہاں تک کہ جب اس کو غرق (کے عذاب) نے آپکڑا تو کہنے لگا کہ میں ایمان لایا کہ جس (خدا) پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں فرمانبرداروں میں ہوں
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
ما بنىاسرائيل را از دريا گذرانيديم. فرعون و لشكريانش به قصد ستم و تعدى به تعقيبشان پرداختند. چون فرعون غرق مىشد گفت: ايمان آوردم كه هيچ خداوندى جز آن كه بنىاسرائيل بدان ايمان آوردهاند نيست، و من از تسليمشدگانم.
اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار کردیا تو فرعون اور اس کے لشکر نے سرکشی اور تعدی سے ان کا تعاقب کیا۔ یہاں تک کہ جب اس کو غرق (کے عذاب) نے آپکڑا تو کہنے لگا کہ میں ایمان لایا کہ جس (خدا) پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں فرمانبرداروں میں ہوں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
جاوَزْنَا: ہم نے عبور کرایا، پار اتارا۔
فَأَتْبَعَهُمْ: پس وہ ان کے پیچھے پیچھے چلا۔
بَغْیًا: ظلم و زیادتی کے طور پر۔
عَدْوًا: حد سے تجاوز کرتے ہوئے، سرکشی کے ساتھ۔
أَدْرَکَهُ الْغَرَقُ: غرقابی نے اسے آ لیا، یعنی پانی نے اسے گھیر لیا۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرتِ کاملہ سے بنی اسرائیل کو بحرِ قلزم (سمندر) پار کرایا اور انہیں محفوظ طور پر کنارے تک پہنچا دیا۔ جب فرعون نے دیکھا کہ بنی اسرائیل سمندر پار کر گئے ہیں تو اس کا ظلم اور سرکشی اور بڑھ گئی، اور وہ اپنے لشکروں کے ساتھ ظلم و زیادتی اور حد سے تجاوز کرتے ہوئے ان کے پیچھے سمندر میں داخل ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے سمندر کو اس طرح حکم دیا کہ جب فرعون اور اس کا لشکر درمیان میں پہنچے تو پانی ان پر بند ہو گیا اور غرقابی نے فرعون کو گھیر لیا۔
جب موت کا وقت آیا اور فرعون نے یقین کر لیا کہ اب بچنا ناممکن ہے، تو اس نے کہا: "میں ایمان لایا کہ کوئی معبودِ برحق نہیں سوائے اس کے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں، اور میں بھی مسلمانوں (اللہ کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرنے والوں) میں سے ہوں۔" اس نے اپنے ایمان کا اقرار کیا، لیکن یہ ایمان وقتِ نزولِ عذاب تھا، جو قبول نہیں ہوتا۔ فرعون نے ساری زندگی کفر و سرکشی میں گزاری، اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا، اور بنی اسرائیل پر ظلم کے پہاڑ توڑے، اس لیے اس کا یہ دیرینہ ایمان اسے کوئی فائدہ نہ دے سکا۔
دعوتی پہلو:
یہ واقعہ ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ اللہ کی رحمت اور عذاب دونوں اس کے حکم سے آتے ہیں۔ فرعون جیسا طاقتور بادشاہ جس کے سامنے ساری قوم ڈرتی تھی، جب اللہ کا عذاب آیا تو وہ بے بس ہو کر پانی میں ڈوب گیا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اصل طاقت صرف اللہ کی ہے، اور کوئی بھی شخص اپنی طاقت، دولت یا عہدے پر فخر نہ کرے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم زندگی بھر اللہ کی اطاعت کریں اور اپنے ایمان کو صرف زبانی نہ رکھیں بلکہ عمل سے ثابت کریں۔ ایمان کی حلاوت اسی وقت ملتی ہے جب ہم اسے وقت پر قبول کریں، نہ کہ موت کے وقت جب توبہ کا دروازہ بند ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں فرعون جیسی سرکشی سے بچائے اور سچے دل سے ایمان لانے کی توفیق دے۔ آمین۔
اور موسیٰ نے کہا اے ہمارے پروردگار تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں (بہت سا) سازو برگ اور مال وزر دے رکھا ہے۔ اے پروردگار ان کا مال یہ ہے کہ تیرے رستے سے گمراہ کردیں۔ اے پروردگار ان کے مال کو برباد کردے اور ان کے دلوں کو سخت کردے کہ ایمان نہ لائیں جب تک عذاب الیم نہ دیکھ لیں
اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار کردیا تو فرعون اور اس کے لشکر نے سرکشی اور تعدی سے ان کا تعاقب کیا۔ یہاں تک کہ جب اس کو غرق (کے عذاب) نے آپکڑا تو کہنے لگا کہ میں ایمان لایا کہ جس (خدا) پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں فرمانبرداروں میں ہوں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔