ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- عِشَاءً: شام کا وقت، رات کا آغاز۔
- یَبْکُونَ: رو رہے تھے، (یہاں حقیقی رونا نہیں بلکہ ڈرامائی رونا مراد ہے)۔
تفسیر:
یہ آیت اس المناک اور افسوسناک واقعے کا نقشہ پیش کرتی ہے جب حضرت یعقوب علیہ السلام کے بیٹوں نے اپنے بھائی یوسف علیہ السلام کو کنویں میں ڈال کر اپنے والد کے پاس واپس آئے۔ وہ شام کے وقت گھر آئے، جب اندھیرا چھا چکا تھا، اور وہ رو رہے تھے۔ لیکن یہ رونا حقیقی غم کا نہیں تھا، بلکہ محض دکھاوے کا تھا تاکہ والد کو دھوکہ دے سکیں اور اپنے جھوٹ کو سچ ثابت کر سکیں۔ انہوں نے رات کا اندھیرا اس لیے چنا تاکہ والد صاحب کو ان کے چہروں کے جھوٹ کا پتہ نہ چل سکے، اور رات کی تاریکی میں ان کے جھوٹے آنسو زیادہ قابلِ یقین معلوم ہوں۔
یہاں اللہ تعالیٰ نے ان کے مکر و فریب کا پردہ فاش کیا ہے کہ وہ "یَبْکُونَ" (روتے ہوئے) آئے، لیکن یہ رونا حقیقت میں "تَبَاکٍ" یعنی جھوٹا رونا تھا، جو محض دھوکہ دینے کے لیے تھا۔ وہ جانتے تھے کہ اگر دن کے وقت آتے تو ان کے چہرے ان کی حقیقت ظاہر کر دیتے، اس لیے انہوں نے رات کا وقت منتخب کیا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں ایک بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ جھوٹ اور دھوکہ کبھی کامیاب نہیں ہوتا، چاہے اسے کتنی ہی خوبصورتی سے پیش کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے اور ہر مکر کو بے نقاب کرنے والا ہے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام جیسے نیک باپ کو بھی اپنے بیٹوں کے دھوکے کا سامنا کرنا پڑا، لیکن انہوں نے صبر کیا اور اللہ پر بھروسہ رکھا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی میں سچائی کو اپنائیں، کیونکہ سچائی میں برکت ہے اور جھوٹ میں رسوائی۔ اللہ تعالیٰ نے اس واقعے کو ہمارے لیے عبرت بنایا ہے کہ ہم کبھی دھوکہ اور فریب کا راستہ اختیار نہ کریں، کیونکہ آخر کار سچ ہی کامیاب ہوتا ہے۔ یہودیوں کے اس مکر کا انجام بھی آپ نے دیکھا کہ اللہ نے یوسف علیہ السلام کو عزت دی اور ان کے والد کو صبر کا اجر عظیم عطا فرمایا۔
📜 آیت 14-18 — یوسف
ترجمہ — یوسف 16
سورہ یوسف آیت 16 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (یہ حرکت کرکے) وہ رات کے وقت باپ کے پاس…سورہ آیت 16/111 — یوسف يوسف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: یوسف سنیں, یوسف ترجمہ, یوسف mp3, یوسف pdf. آیت 14–18. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








