نحل · 70/128
ترجمہ تلفظ — نحل
وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ ثُمَّ يَتَوَفَّاكُمْ ۚ وَمِنكُم مَّن يُرَدُّ إِلَىٰ أَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْ لَا يَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَيْئًا ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ قَدِيرٌ ۝٧٠
Wallaahu khalaqakum suma tatawaffaakum; wa minkum many-yuradu ilaaa arzalil `umuri likai laa ya`lama ba`da `ilmin shai`aa; innal laaha `Aleemun Qadeer
📖 اردو ترجمہ
اور خدا ہی نے تم کو پیدا کیا۔ پھر وہی تم کو موت دیتا ہے اور تم میں بعض ایسے ہوتے ہیں کہ نہایت خراب عمر کو پہنچ جاتے ہیں اور (بہت کچھ) جاننے کے بعد ہر چیز سے بےعلم ہوجاتے ہیں۔ بےشک خدا (سب کچھ) جاننے والا (اور) قدرت والا ہے
🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

اللہ تعالیٰ نے تمہیں پیدا کیا، پھر وہی تمہیں موت دیتا ہے، اور تم میں سے بعض کو بڑھاپے کی بدترین عمر تک پہنچا دیا جاتا ہے، تاکہ وہ علم کے بعد کچھ نہ جان سکے۔ بے شک اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا اور ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔

معانی الفاظ:

  • أَرْذَلِ الْعُمُرِ: عمر کا سب سے برا اور گھٹیا حصہ، یعنی انتہائی بڑھاپا جب انسان کی قوتیں جواب دے جائیں اور وہ بچوں جیسا ہو جائے۔
  • يَتَوَفَّاكُمْ: تمہاری روحیں قبض کرتا ہے، یعنی موت دیتا ہے۔
  • عَلِيمٌ قَدِيرٌ: سب کچھ جاننے والا، ہر چیز پر قدرت رکھنے والا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اپنی قدرت اور حکمت کے کمالات بیان فرماتا ہے کہ وہی ہے جس نے تمہیں عدم سے وجود بخشا، پھر تمہیں اس دنیا میں رہنے کا وقت دیا، اور جب تمہاری مدت پوری ہو جاتی ہے تو وہی تمہاری روحیں قبض کرتا ہے۔ یہ سلسلہ اس کی مشیت کے مطابق چلتا رہتا ہے۔

پھر اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کا ایک عجیب نمونہ بیان فرماتا ہے کہ تم میں سے بعض لوگ ایسے ہیں جنہیں انتہائی بڑھاپے تک پہنچا دیا جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی اور طاقت کے زمانے میں جو کچھ جانتے تھے، اسے بھی بھول جاتے ہیں، اور وہ علم کے بعد نادانی کی اس حالت میں پہنچ جاتے ہیں جیسے بچہ ہوتا ہے۔ یہ اللہ کی قدرت کا کمال ہے کہ وہ انسان کو علم و عقل کی بلندیوں سے اتار کر کمزوری اور نادانی کی پستی تک لے آتا ہے۔

یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ انسان کو معلوم ہو کہ اللہ ہی سب کچھ کرنے پر قادر ہے، اور اس کا علم ہر چیز کو محیط ہے۔ جو اللہ انسان کو بڑھاپے کی اس حالت تک پہنچا سکتا ہے، وہ یقیناً انسان کو موت دینے اور پھر دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی قدرت اور حکمت پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ انسان کی زندگی کا یہ سفر – پیدائش سے جوانی تک، پھر بڑھاپے کی کمزوری تک – اس بات کا زندہ ثبوت ہے کہ اس دنیا کی زندگی عارضی ہے، اور اصل زندگی آخرت کی ہے۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ ایک مضبوط جوان آہستہ آہستہ کمزور بوڑھا بن جاتا ہے، تو ہمیں سمجھنا چاہیے کہ یہ اللہ کی قدرت کا کھیل ہے، اور وہی ہمیں موت کے بعد دوبارہ زندہ کرے گا۔

یہ آیت ہمیں اپنی جوانی اور صحت کی قدر کرنے کی تلقین کرتی ہے، اور ساتھ ہی یہ یاد دلاتی ہے کہ ہمیں اپنے علم اور طاقت کو اللہ کی اطاعت اور بندوں کی خدمت میں صرف کرنا چاہیے، کیونکہ یہ نعمتیں ہمیشہ نہیں رہتیں۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے اور ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، اس لیے ہمیں اپنی زندگی کے ہر لمحے کو اس کی رضا کے مطابق گزارنا چاہیے، تاکہ جب ہم اس کے پاس لوٹ کر جائیں تو ہم کامیاب ہوں۔

📜 آیت 68-72 — نحل

68وَأَوْحَىٰ رَبُّكَ إِلَى النَّحْلِ أَنِ اتَّخِذِي مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا وَمِنَ الشَّجَرِ وَمِمَّا يَعْرِشُونَ
اور تمہارے پروردگار نے شہد کی مکھیوں کو ارشاد فرمایا کہ پہاڑوں میں اور درختوں میں اور اونچی اونچی چھتریوں میں جو لوگ بناتے ہیں گھر بنا
69ثُمَّ كُلِي مِن كُلِّ الثَّمَرَاتِ فَاسْلُكِي سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا ۚ يَخْرُجُ مِن بُطُونِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ أَلْوَانُهُ فِيهِ شِفَاءٌ لِّلنَّاسِ ۗ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ
اور ہر قسم کے میوے کھا۔ اور اپنے پروردگار کے صاف رستوں پر چلی جا۔ اس کے پیٹ سے پینے کی چیز نکلتی ہے جس کے مختلف رنگ ہوتے ہیں اس میں لوگوں (کے کئی امراض) کی شفا ہے۔ بےشک سوچنے والوں کے لیے اس میں بھی نشانی ہے
70وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ ثُمَّ يَتَوَفَّاكُمْ ۚ وَمِنكُم مَّن يُرَدُّ إِلَىٰ أَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْ لَا يَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَيْئًا ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ قَدِيرٌ
اور خدا ہی نے تم کو پیدا کیا۔ پھر وہی تم کو موت دیتا ہے اور تم میں بعض ایسے ہوتے ہیں کہ نہایت خراب عمر کو پہنچ جاتے ہیں اور (بہت کچھ) جاننے کے بعد ہر چیز سے بےعلم ہوجاتے ہیں۔ بےشک خدا (سب کچھ) جاننے والا (اور) قدرت والا ہے
71وَاللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ ۚ فَمَا الَّذِينَ فُضِّلُوا بِرَادِّي رِزْقِهِمْ عَلَىٰ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَهُمْ فِيهِ سَوَاءٌ ۚ أَفَبِنِعْمَةِ اللَّهِ يَجْحَدُونَ
اور خدا نے رزق (ودولت) میں بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے تو جن لوگوں کو فضیلت دی ہے وہ اپنا رزق اپنے مملوکوں کو تو دے ڈالنے والے ہیں نہیں کہ سب اس میں برابر ہوجائیں۔ تو کیا یہ لوگ نعمت الہیٰ کے منکر ہیں
72وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا وَجَعَلَ لَكُم مِّنْ أَزْوَاجِكُم بَنِينَ وَحَفَدَةً وَرَزَقَكُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ ۚ أَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَتِ اللَّهِ هُمْ يَكْفُرُونَ
اور خدا ہی نے تم میں سے تمہارے لیے عورتیں پیدا کیں اور عورتوں سے تمہارے بیٹے اور پوتے پیدا کیے اور کھانے کو تمہیں پاکیزہ چیزیں دیں۔ تو کیا بےاصل چیزوں پر اعتقاد رکھتے اور خدا کی نعمتوں سے انکار کرتے ہیں
نحلقرآن فہرست
128آیت
مکیRevelation
70آیت

ترجمہ — نحل 70

سورہ نحل آیت 70 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور خدا ہی نے تم کو پیدا کیا۔ پھر وہی…

سورہ آیت 70/128 — نحل النحل (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نحل سنیں, نحل ترجمہ, نحل mp3, نحل pdf. آیت 68–72. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں