اور جب ظالم لوگ عذاب دیکھ لیں گے تو پھر نہ تو اُن کے عذاب ہی میں تخفیف کی جائے گی اور نہ اُن کو مہلت ہی دی جائے گی
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
ظلموا: یعنی کفر کیا، شرک کیا، اور اللہ کی نافرمانی کی۔
عذاب: یعنی جہنم کا عذاب۔
یُخفَّف: ہلکا کیا جائے۔
یُنظَرون: مہلت دیے جائیں، ڈھیل دی جائے۔
تفسیر:
جب ظالم لوگ — جنہوں نے کفر و شرک کیا اور اللہ کے احکام کو ماننے سے انکار کیا — قیامت کے دن عذابِ الٰہی کو آنکھوں سے دیکھ لیں گے، تو اس وقت ان کی حالت انتہائی خوفناک ہوگی۔ وہ جہنم کے عذاب کو یوں دیکھیں گے جیسے وہ ان کے سامنے حاضر ہے۔ اس وقت نہ تو ان کا عذاب ہلکا کیا جائے گا، نہ ذرہ برابر کمی کی جائے گی، اور نہ ہی انہیں کوئی مہلت دی جائے گی۔ وہ فوراً اس عذاب میں داخل کر دیے جائیں گے اور ہمیشہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔
یہ آیت مومنین کے لیے ایک عظیم نصیحت اور غافلوں کے لیے سخت تنبیہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحم فرماتے ہوئے انہیں پہلے ہی خبردار کر دیا ہے تاکہ وہ دنیا میں رہتے ہوئے اپنے اعمال سنوار لیں اور عذاب سے بچ جائیں۔ اللہ کی رحمت کا دروازہ توبہ تک کھلا ہے، لیکن جب عذاب آجائے گا تو پھر نہ کوئی مہلت ہوگی اور نہ کوئی رعایت۔
پیارے مسلمان بھائیو اور بہنو! ہمیں چاہیے کہ آج ہی اپنے اعمال کا جائزہ لیں، اپنے ایمان کو مضبوط کریں، اور ہر اس کام سے بچیں جو اللہ کی ناراضگی کا سبب بنے۔ اللہ تعالیٰ بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے، وہ چاہتا ہے کہ ہم اس کی طرف رجوع کریں اور اس کے فضل سے جنت کے حقدار بنیں۔ آئیے ہم اس آیت سے سبق حاصل کریں کہ عذاب سے بچنے کا واحد راستہ ایمان، تقویٰ اور نیک اعمال ہیں، اور یہی وہ چیز ہے جو ہمیں اللہ کی رحمت کے قریب کرتی ہے۔
اور جب مشرک (اپنے بنائے ہوئے) شریکوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے کہ پروردگار یہ وہی ہمارے شریک ہیں جن کو ہم تیرے سوا پُکارا کرتے تھے۔ تو وہ (اُن کے کلام کو مسترد کردیں گے اور) اُن سے کہیں گے کہ تم تو جھوٹے ہو
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔