ترجمہ — Tafsir
قُلْ آمِنُوا بِهِ أَوْ لَا تُؤْمِنُوا ۚ إِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ مِن قَبْلِهِ إِذَا يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ يَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ سُجَّدًا
معانی الفاظ:
- یَخِرُّونَ: گرتے ہیں، سجدے میں جھک جاتے ہیں۔
- لِلْأَذْقَانِ: ٹھوڑیوں کے بل۔ "ذَقَن" ٹھوڑی کو کہتے ہیں، اور یہاں مراد چہرے کے بل گرنا ہے۔
- أُوتُوا الْعِلْمَ: جنہیں علم دیا گیا، یعنی اہلِ کتاب کے وہ علماء جو پہلی آسمانی کتابوں کے جاننے والے تھے۔
تفسیر:
اے نبیِ مکرم! آپ ان کافروں سے فرما دیجیے کہ تم اس قرآن پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ، اس سے قرآن کی عظمت اور شان میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ تمہارا ایمان اسے زیادہ خوبصورت نہیں کر سکتا، اور تمہارا انکار اسے کم تر نہیں کر سکتا۔ یہ قرآن تو اللہ کا کلام ہے، جو ہر حال میں بلند و برتر ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ ان لوگوں کا ذکر فرما رہے ہیں جو حقیقی علم رکھتے تھے، یعنی وہ علماءِ یہود و نصاریٰ جنہوں نے اپنی آسمانی کتابوں (تورات و انجیل) کو پڑھا تھا اور وہ وحی اور نبوت کی حقیقت کو خوب جانتے تھے۔ انہیں معلوم تھا کہ اللہ کی آخری کتاب اور آخری رسول کی پیشین گوئی ان کی کتابوں میں موجود ہے۔ جب ان کے سامنے قرآن کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو وہ اپنے علم کی وجہ سے پہچان لیتے ہیں کہ یہ وہی سچا کلام ہے جس کا وعدہ تھا۔ چنانچہ وہ فوراً اللہ کے سامنے سرنگوں ہو جاتے ہیں، اپنی ٹھوڑیوں اور چہروں کے بل سجدے میں گر پڑتے ہیں، اللہ کی عظمت کے آگے جھک جاتے ہیں، اور شکر ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے اس سچائی کو پہچان لیا۔
یہ سجدہ محض رسمی نہیں ہوتا، بلکہ ان کے دلوں کی گہرائی سے نکلتا ہے، کیونکہ انہوں نے علم کی روشنی میں حق کو پہچان لیا ہوتا ہے۔ علمِ حقیقی انسان کو عاجزی اور خشوع عطا کرتا ہے، اور یہی علم انہیں اللہ کے سامنے جھکنے پر آمادہ کرتا ہے۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ علمِ حقیقی وہی ہے جو انسان کو اللہ کے سامنے جھکائے، اس کی عظمت کا احساس دلائے، اور اسے خشوع و خضوع عطا کرے۔ آج بھی جو لوگ سچے دل سے علم حاصل کرتے ہیں، جو قرآن کو غور سے پڑھتے اور سمجھتے ہیں، ان کے دلوں میں اللہ کی محبت اور اس کے کلام کی عظمت بڑھتی جاتی ہے۔ قرآن مجید ایک زندہ معجزہ ہے، جو ہر دور میں اپنی حقانیت ثابت کرتا ہے۔ جو لوگ اسے پڑھ کر نہیں جھکتے، ان کے دلوں پر مہر لگ چکی ہوتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم قرآن کو محض تلاوت کے لیے نہ پڑھیں، بلکہ اس پر غور کریں، اسے سمجھیں، اور اس کے سامنے اپنے دلوں کو جھکا دیں۔ جب دل سجدے میں جھکتا ہے تو انسان کو سکون ملتا ہے، اور یہی سکون آخرت کی کامیابی کی کنجی ہے۔ اللہ ہمیں علمِ نافع عطا فرمائے اور ہمارے دلوں کو اپنے کلام کے سامنے جھکنے کی توفیق دے۔ آمین۔
📜 آیت 105-109 — اسراء
ترجمہ — اسراء 107
سورہ اسراء آیت 107 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : کہہ دو کہ تم اس پر ایمان لاؤ یا نہ…سورہ آیت 107/111 — اسراء الإسراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اسراء سنیں, اسراء ترجمہ, اسراء mp3, اسراء pdf. آیت 105–109. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








