بےشک تمہارا پروردگار جس کی روزی چاہتا ہے فراخ کردیتا ہے اور (جس کی روزی چاہتا ہے) تنگ کردیتا ہے وہ اپنے بندوں سے خبردار ہے اور (ان کو) دیکھ رہا ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
يَبْسُطُ: کشادہ کرنا، فراخ کرنا
يَقْدِرُ: تنگ کرنا، محدود کرنا
خَبِيرًا: خوب جاننے والا، باخبر
بَصِيرًا: دیکھنے والا، سب کچھ دیکھنے والا
تفسیر:
اے نبی کریم ﷺ! آپ کا رب اپنی حکمتِ کاملہ کے مطابق جس بندے کو چاہتا ہے کشادہ رزق عطا فرماتا ہے اور جس کو چاہتا ہے تنگ رزق دیتا ہے۔ یہ تقسیمِ رزق کسی بے جا پسند یا ناپسند پر مبنی نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے حالات، مصلحتوں اور ضروریات کو خوب جانتا ہے۔ وہی جانتا ہے کہ کس بندے کے لیے کشادگی بہتر ہے اور کس کے لیے تنگی۔ کبھی کشادگی بندے کے لیے آزمائش بن جاتی ہے اور کبھی تنگی اس کے لیے رحمت کا باعث ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے بارے میں مکمل خبر رکھتا ہے، ان کے دلوں کے رازوں سے واقف ہے، ان کی نیتوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ کس کو کتنا دینا چاہیے، کب دینا چاہیے اور کیسے دینا چاہیے۔ اس کی نظرِ عنایت ہر بندے پر ہے، چاہے وہ امیر ہو یا غریب۔
دعوتی پہلو:
اس آیتِ کریمہ سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ رزق کی تقسیم اللہ کے ہاتھ میں ہے، نہ کسی بندے کے ہاتھ میں۔ جب ہمیں یہ یقین ہو جائے کہ ہمارا رزق اللہ نے لکھ دیا ہے، تو پھر ہم فکرِ معاش میں مبتلا نہیں ہوں گے، نہ حرام کمائی کی طرف مائل ہوں گے اور نہ دوسروں کے پاس دیکھ کر حسد کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے جسے جو دیا ہے، اس میں اس کی بھلائی ہی ہوتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے رزق میں برکت کے لیے اللہ سے دعا کریں، حلال روزی کمائیں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں۔ یاد رکھیں! اللہ اپنے بندوں سے بے پناہ محبت کرتا ہے اور ان کی بھلائی کے سوا کچھ نہیں چاہتا۔
اور اگر تم نے اپنے پروردگار کی رحمت (یعنی فراخ دستی) کے انتظار میں جس کی تمہیں امید ہو ان (مستحقین) کی طرف توجہ نہ کرسکو اُن سے نرمی سے بات کہہ دیا کرو
اور اپنے ہاتھ کو نہ تو گردن سے بندھا ہوا (یعنی بہت تنگ) کرلو (کہ کسی کچھ دو ہی نہیں) اور نہ بالکل کھول ہی دو (کہ سبھی دے ڈالو اور انجام یہ ہو) کہ ملامت زدہ اور درماندہ ہو کر بیٹھ جاؤ
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔