اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو شفقت و رحمت کے ساتھ نصیحت فرماتا ہے کہ اپنی اولاد کو فقر و محتاجی کے ڈر سے قتل نہ کرو۔ زمانہ جاہلیت میں لوگ اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیتے تھے، اس خوف سے کہ کہیں ان کی پرورش کا خرچ برداشت نہ کرنا پڑے۔ کچھ لوگ اپنے بچوں کو اس خوف سے قتل کر دیتے تھے کہ آئندہ ان کی کفالت مشکل ہو جائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے اس ظالمانہ اور وحشیانہ فعل سے سختی کے ساتھ منع فرمایا اور یہ حقیقت واضح کی کہ رزق دینے والا صرف اللہ ہے۔ وہ فرماتا ہے: "ہم انہیں بھی رزق دیتے ہیں اور تمہیں بھی" — یعنی اللہ تعالیٰ نے اولاد کے رزق کی ذمہ داری بھی اپنے ذمہ لے لی ہے، اور والدین کے رزق کی بھی۔ یہ ایک عظیم اطمینان کی بات ہے کہ جس رب نے بچے کو پیدا کیا ہے، وہی اس کی پرورش کا انتظام بھی فرمائے گا۔
پھر اللہ تعالیٰ اس فعل کی شدید مذمت کرتے ہوئے فرماتا ہے: "بے شک ان کا قتل بہت بڑا گناہ ہے" — یہ قتلِ ناحق ہے، کیونکہ بچہ تو بے گناہ ہے، اس نے کوئی جرم نہیں کیا۔ یہ فعل اللہ کی رحمت سے مایوسی اور اس کے رزق پر بھروسہ نہ کرنے کی علامت ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ رزق کی فکر انسان کو اللہ کی ذات سے غافل نہیں کرنی چاہیے۔ جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے، اللہ اس کے لیے کافی ہے۔ اولاد اللہ کی امانت ہے، ان کی پرورش اور رزق کا وعدہ اللہ نے خود کیا ہے۔ آج بھی کچھ لوگ خاندانی منصوبہ بندی کے نام پر یا معاشی مشکلات کے خوف سے اولاد کو قتل کر دیتے ہیں (اسقاطِ حمل) — یہ بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اللہ پر توکل کریں، کیونکہ وہی رزاق ہے، اور اس کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہوں۔ اولاد اللہ کی نعمت ہے، اسے شکر کے ساتھ قبول کریں، نہ کہ خوف کے ساتھ رد کریں۔
اور اپنے ہاتھ کو نہ تو گردن سے بندھا ہوا (یعنی بہت تنگ) کرلو (کہ کسی کچھ دو ہی نہیں) اور نہ بالکل کھول ہی دو (کہ سبھی دے ڈالو اور انجام یہ ہو) کہ ملامت زدہ اور درماندہ ہو کر بیٹھ جاؤ
اور جس کا جاندار کا مارنا خدا نے حرام کیا ہے اسے قتل نہ کرنا مگر جائز طور پر (یعنی بفتویٰ شریعت) ۔ اور جو شخص ظلم سے قتل کیا جائے ہم نے اس کے وارث کو اختیار دیا ہے (کہ ظالم قاتل سے بدلہ لے) تو اس کو چاہیئے کہ قتل (کے قصاص) میں زیادتی نہ کرے کہ وہ منصورو فتحیاب ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔