ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- مَرَحًا: تکبر اور اترا کر چلنا، خوشی سے اِترانا۔
- لَن تَخْرِقَ الْأَرْضَ: تم زمین کو چیر نہیں سکتے، یعنی زمین میں شگاف نہیں ڈال سکتے۔
- وَلَن تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُولًا: تم پہاڑوں کی بلندی تک نہیں پہنچ سکتے۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ایک خوبصورت اور شائستہ اخلاقی ہدایت دے رہا ہے کہ زمین پر تکبر اور اِتراتے ہوئے نہ چلو۔ یعنی اپنے چلنے کے انداز میں بھی عاجزی اور انکساری ہونی چاہیے، کیونکہ تکبر اور گھمنڈ اللہ کو سخت ناپسند ہے۔
اللہ تعالیٰ ایک عقلی اور حسی دلیل سے اس منع کی وضاحت فرماتا ہے: "تم زمین کو اپنے قدموں سے چیر نہیں سکتے، اور نہ ہی اپنے قد کی لمبائی سے پہاڑوں کی بلندی کو پہنچ سکتے ہو۔" یعنی جب تمہاری طاقت اور قوت اتنی محدود ہے کہ تم زمین کو نقصان نہیں پہنچا سکتے، اور نہ ہی پہاڑوں جیسی بلندی حاصل کر سکتے ہو، تو پھر اِترانے اور تکبر کرنے کی کیا وجہ ہے؟ یہ ایک بے بنیاد اور فضول حرکت ہے۔
یہ آیت مومن کے لیے ایک آئینہ ہے کہ وہ اپنی کمزوری اور عاجزی کو پہچانے، اور یاد رکھے کہ کبریائی اور بڑائی صرف اللہ کے لیے ہے۔ جو شخص اللہ کے سامنے جھکتا ہے، اللہ اسے عزت دیتا ہے، اور جو تکبر کرتا ہے، وہ اللہ کی نظر میں ذلیل ہوتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ ہمیں سکھاتا ہے کہ عاجزی اور فروتنی مومن کی پہچان ہے۔ جب ہم زمین پر نرمی سے چلتے ہیں، تو یہ ہمارے ایمان کی خوبصورتی کو ظاہر کرتا ہے۔ یاد رکھیں! یہ دنیا اللہ کی ملکیت ہے، اور ہم اس میں مسافر ہیں۔ مسافر کبھی تکبر نہیں کرتا، بلکہ وہ عاجزی سے اپنے رب کی طرف بڑھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا: "اور رحمان کے بندے وہ ہیں جو زمین پر عاجزی سے چلتے ہیں" (الفرقان: 63)۔ آئیے ہم اپنی زندگی میں عاجزی کو اپنائیں، کیونکہ یہی وہ صفت ہے جو ہمیں اللہ کے قریب کرتی ہے اور لوگوں کے دلوں میں محبت پیدا کرتی ہے۔ اللہ ہمیں تکبر سے بچائے اور عاجزی عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 35-39 — اسراء
ترجمہ — اسراء 37
سورہ اسراء آیت 37 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور زمین پر اکڑ کر (اور تن کر) مت چل…سورہ آیت 37/111 — اسراء الإسراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اسراء سنیں, اسراء ترجمہ, اسراء mp3, اسراء pdf. آیت 35–39. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








