اسراء · 37/111
ترجمہ تلفظ — اسراء
وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا ۖ إِنَّكَ لَن تَخْرِقَ الْأَرْضَ وَلَن تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُولًا ۝٣٧
Wa laa tamshi fil ardi marahan innaka lan takhriqal arda wa lan tablughal jibaala toola
📖 اردو ترجمہ
اور زمین پر اکڑ کر (اور تن کر) مت چل کہ تو زمین کو پھاڑ تو نہیں ڈالے گا اور نہ لمبا ہو کر پہاڑوں (کی چوٹی) تک پہنچ جائے گا

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • مَرَحًا: تکبر اور اترا کر چلنا، خوشی سے اِترانا۔
  • لَن تَخْرِقَ الْأَرْضَ: تم زمین کو چیر نہیں سکتے، یعنی زمین میں شگاف نہیں ڈال سکتے۔
  • وَلَن تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُولًا: تم پہاڑوں کی بلندی تک نہیں پہنچ سکتے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ایک خوبصورت اور شائستہ اخلاقی ہدایت دے رہا ہے کہ زمین پر تکبر اور اِتراتے ہوئے نہ چلو۔ یعنی اپنے چلنے کے انداز میں بھی عاجزی اور انکساری ہونی چاہیے، کیونکہ تکبر اور گھمنڈ اللہ کو سخت ناپسند ہے۔

اللہ تعالیٰ ایک عقلی اور حسی دلیل سے اس منع کی وضاحت فرماتا ہے: "تم زمین کو اپنے قدموں سے چیر نہیں سکتے، اور نہ ہی اپنے قد کی لمبائی سے پہاڑوں کی بلندی کو پہنچ سکتے ہو۔" یعنی جب تمہاری طاقت اور قوت اتنی محدود ہے کہ تم زمین کو نقصان نہیں پہنچا سکتے، اور نہ ہی پہاڑوں جیسی بلندی حاصل کر سکتے ہو، تو پھر اِترانے اور تکبر کرنے کی کیا وجہ ہے؟ یہ ایک بے بنیاد اور فضول حرکت ہے۔

یہ آیت مومن کے لیے ایک آئینہ ہے کہ وہ اپنی کمزوری اور عاجزی کو پہچانے، اور یاد رکھے کہ کبریائی اور بڑائی صرف اللہ کے لیے ہے۔ جو شخص اللہ کے سامنے جھکتا ہے، اللہ اسے عزت دیتا ہے، اور جو تکبر کرتا ہے، وہ اللہ کی نظر میں ذلیل ہوتا ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ ہمیں سکھاتا ہے کہ عاجزی اور فروتنی مومن کی پہچان ہے۔ جب ہم زمین پر نرمی سے چلتے ہیں، تو یہ ہمارے ایمان کی خوبصورتی کو ظاہر کرتا ہے۔ یاد رکھیں! یہ دنیا اللہ کی ملکیت ہے، اور ہم اس میں مسافر ہیں۔ مسافر کبھی تکبر نہیں کرتا، بلکہ وہ عاجزی سے اپنے رب کی طرف بڑھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا: "اور رحمان کے بندے وہ ہیں جو زمین پر عاجزی سے چلتے ہیں" (الفرقان: 63)۔ آئیے ہم اپنی زندگی میں عاجزی کو اپنائیں، کیونکہ یہی وہ صفت ہے جو ہمیں اللہ کے قریب کرتی ہے اور لوگوں کے دلوں میں محبت پیدا کرتی ہے۔ اللہ ہمیں تکبر سے بچائے اور عاجزی عطا فرمائے۔ آمین۔



📜 آیت 35-39 — اسراء

35وَأَوْفُوا الْكَيْلَ إِذَا كِلْتُمْ وَزِنُوا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِيمِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا
اور جب (کوئی چیز) ناپ کر دینے لگو تو پیمانہ پورا بھرا کرو اور (جب تول کر دو تو) ترازو سیدھی رکھ کر تولا کرو۔ یہ بہت اچھی بات اور انجام کے لحاظ سے بھی بہت بہتر ہے
36وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ ۚ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَٰئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا
اور (اے بندے) جس چیز کا تجھے علم نہیں اس کے پیچھے نہ پڑ۔ کہ کان اور آنکھ اور دل ان سب (جوارح) سے ضرور باز پرس ہوگی
37وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا ۖ إِنَّكَ لَن تَخْرِقَ الْأَرْضَ وَلَن تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُولًا
اور زمین پر اکڑ کر (اور تن کر) مت چل کہ تو زمین کو پھاڑ تو نہیں ڈالے گا اور نہ لمبا ہو کر پہاڑوں (کی چوٹی) تک پہنچ جائے گا
38كُلُّ ذَٰلِكَ كَانَ سَيِّئُهُ عِندَ رَبِّكَ مَكْرُوهًا
ان سب (عادتوں) کی برائی تیرے پروردگار کے نزدیک بہت ناپسند ہے
39ذَٰلِكَ مِمَّا أَوْحَىٰ إِلَيْكَ رَبُّكَ مِنَ الْحِكْمَةِ ۗ وَلَا تَجْعَلْ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ فَتُلْقَىٰ فِي جَهَنَّمَ مَلُومًا مَّدْحُورًا
اے پیغمبر یہ ان (ہدایتوں) میں سے ہیں جو خدا نے دانائی کی باتیں تمہاری طرف وحی کی ہیں۔ اور خدا کے ساتھ کوئی معبود نہ بنانا کہ (ایسا کرنے سے) ملامت زدہ اور (درگاہ خدا سے) راندہ بنا کر جہنم میں ڈال دیئے جاؤ گے
اسراءقرآن فہرست
111آیت
مکیRevelation
37آیت

ترجمہ — اسراء 37

سورہ اسراء آیت 37 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور زمین پر اکڑ کر (اور تن کر) مت چل…

سورہ آیت 37/111 — اسراء الإسراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اسراء سنیں, اسراء ترجمہ, اسراء mp3, اسراء pdf. آیت 35–39. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں