أَفَأَصْفَاكُمْ: کیا اس نے تمہیں خاص کر دیا؟ یعنی کیا تمہارے رب نے تمہیں چن لیا؟
بِالْبَنِينَ: بیٹوں کے ساتھ (یعنی تمہیں بیٹے دیے)
وَاتَّخَذَ: اور اس نے (اپنے لیے) بنا لیا
إِنَاثًا: بیٹیاں (لڑکیاں)
قَوْلًا عَظِيمًا: بہت بڑی بات (انتہائی بری اور سنگین بات)
تفسیر:
اے مشرکو! تم لوگ کہتے ہو کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں، حالانکہ یہ تمہارا اپنا قاعدہ ہے کہ بیٹیاں تمہارے نزدیک کمزور اور حقیر ہیں، بیٹوں کو تم فضیلت دیتے ہو۔ تو کیا تمہارے رب نے تمہیں بیٹوں کے ساتھ خاص کر دیا اور اپنے لیے بیٹیاں پسند کیں؟ یہ کتنی بڑی جہالت اور بے ادبی ہے! تم اللہ کے لیے وہ چیز کیسے ثابت کر سکتے ہو جو تم خود اپنے لیے پسند نہیں کرتے؟
اللہ تعالیٰ ان تمام باتوں سے پاک اور بلند ہے۔ وہ کسی کا باپ نہیں، نہ اس کی کوئی اولاد ہے۔ تمہارا یہ قول انتہائی سنگین، قبیح اور بھیانک ہے، جو تمہارے کفر اور گمراہی کی انتہا کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ کی ذات کے بارے میں ادب اور احترام کا دامن نہ چھوڑیں۔ جو لوگ اللہ کے بارے میں ایسی باتیں کرتے ہیں جو اس کی شان کے لائق نہیں، وہ درحقیقت اپنے نفس کی پیروی کرتے ہیں اور شیطان کے بہکاوے میں آ جاتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ اللہ کو اس کی عظمت اور کبریائی کے مطابق پہچانیں، اس کی صفات کو اس کی ذات کے لائق مانتے ہوئے اس کی تسبیح و تقدیس کریں۔ اللہ ہر عیب اور نقص سے پاک ہے، وہی واحد معبود ہے جس کی کوئی مثل نہیں۔
اے پیغمبر یہ ان (ہدایتوں) میں سے ہیں جو خدا نے دانائی کی باتیں تمہاری طرف وحی کی ہیں۔ اور خدا کے ساتھ کوئی معبود نہ بنانا کہ (ایسا کرنے سے) ملامت زدہ اور (درگاہ خدا سے) راندہ بنا کر جہنم میں ڈال دیئے جاؤ گے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔