بقرہ · 14/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلَوْا إِلَىٰ شَيَاطِينِهِمْ قَالُوا إِنَّا مَعَكُمْ إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِئُونَ ۝١٤
Wa izaa laqul lazeena aamanoo qaalooo aamannaa wa izaa khalw ilaa shayaateenihim qaalooo innaa ma`akum innamaa nahnu mustahzi`oon
📖 اردو ترجمہ
اور یہ لوگ جب مومنوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں، اور جب اپنے شیطانوں میں جاتے ہیں تو (ان سے) کہتے ہیں کہ ہم تمھارے ساتھ ہیں اور (پیروانِ محمدﷺ سے) تو ہم ہنسی کیا کرتے ہیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • لَقُوا: ملنا، ملاقات کی۔
  • آمَنَّا: ہم ایمان لائے۔
  • خَلَوْا: تنہائی میں گئے، خلوت اختیار کی۔
  • شَيَاطِينِهِمْ: ان کے شیطان، یعنی ان کے بڑے سردار اور کافر رہنما۔
  • مُسْتَهْزِئُونَ: مذاق اڑانے والے، ہنسی اڑانے والے۔

تفسیر:

یہ آیت کریمہ منافقین کے اس اخلاقِ پست اور دوغلی روش کو بے نقاب کرتی ہے جو انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ اختیار کر رکھی تھی۔ جب یہ منافق کسی مومن سے ملتے تھے تو فوراً کہتے: "ہم بھی تمہاری طرح ایمان لائے، ہم تمہارے ساتھ ہیں۔" وہ اپنے اس جھوٹے دعوے سے مسلمانوں کو دھوکہ دینا چاہتے تھے اور ان کے دلوں میں اپنے لیے جگہ بنانا چاہتے تھے۔ مگر جب وہ ان سے الگ ہو کر اپنے بڑوں، سرداروں اور کافر رہنماؤں کے پاس جاتے تھے، جنہیں قرآن نے "شیاطین" سے تعبیر کیا ہے، تو ان سے صاف کہہ دیتے تھے: "ہم حقیقت میں تمہارے ساتھ ہیں، ہم نے تمہارا دین نہیں چھوڑا، ہم تو صرف مسلمانوں کا مذاق اڑانے کے لیے ان کے سامنے ایمان کا اظہار کرتے ہیں۔"

یہ وہ لوگ تھے جو اپنے کفر کو چھپا کر مسلمانوں کے درمیان گھل مل گئے تھے، تاکہ ان کی صفوں میں انتشار پیدا کریں اور ان کے رازوں سے واقف ہو کر انہیں نقصان پہنچائیں۔ ان کا یہ رویہ نہ صرف مسلمانوں کے ساتھ دھوکہ تھا بلکہ ان کے اپنے سرداروں کے ساتھ بھی جھوٹ تھا، کیونکہ وہ دونوں کو دھوکہ دے رہے تھے۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے منافقین کے اس نفاق کو اس طرح بے نقاب کیا ہے کہ ان کی ساری حقیقت کھل کر سامنے آ گئی۔ یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ ایمان کا دعویٰ صرف زبان سے نہیں بلکہ دل اور عمل سے ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہر اس شخص کو جانتا ہے جو ایمان کا دعویٰ کر کے حقیقت میں کفر پر قائم ہے، اور وہ ان کے دلوں کے بھیدوں سے خوب واقف ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنے ایمان میں سچے اور صادق ہونا چاہیے۔ منافقین کا انجام قرآن میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوں گے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دلوں کو نفاق سے پاک رکھیں، اور اپنے قول و فعل میں مطابقت رکھیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ہمیں سچے مسلمان بنائے اور نفاق سے محفوظ رکھے۔ یاد رکھیں، اللہ تعالیٰ کو ہمارے دلوں کا حال معلوم ہے، چاہے ہم لوگوں کو کتنا ہی دھوکہ دے دیں، اللہ سے کچھ نہیں چھپ سکتا۔

🎧 سنیں

📜 آیت 12-16 — بقرہ

12أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُونَ وَلَٰكِن لَّا يَشْعُرُونَ
دیکھو یہ بلاشبہ مفسد ہیں، لیکن خبر نہیں رکھتے
13وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ آمِنُوا كَمَا آمَنَ النَّاسُ قَالُوا أَنُؤْمِنُ كَمَا آمَنَ السُّفَهَاءُ ۗ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَاءُ وَلَٰكِن لَّا يَعْلَمُونَ
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جس طرح اور لوگ ایمان لے آئے، تم بھی ایمان لے آؤ تو کہتے ہیں، بھلا جس طرح بےوقوف ایمان لے آئے ہیں اسی طرح ہم بھی ایمان لے آئیں؟ سن لو کہ یہی بےوقوف ہیں لیکن نہیں جانتے
14وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلَوْا إِلَىٰ شَيَاطِينِهِمْ قَالُوا إِنَّا مَعَكُمْ إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِئُونَ
اور یہ لوگ جب مومنوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں، اور جب اپنے شیطانوں میں جاتے ہیں تو (ان سے) کہتے ہیں کہ ہم تمھارے ساتھ ہیں اور (پیروانِ محمدﷺ سے) تو ہم ہنسی کیا کرتے ہیں
15اللَّهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَيَمُدُّهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ
ان (منافقوں) سے خدا ہنسی کرتا ہے اور انہیں مہلت دیئے جاتا ہے کہ شرارت وسرکشی میں پڑے بہک رہے ہیں
16أُولَٰئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلَالَةَ بِالْهُدَىٰ فَمَا رَبِحَت تِّجَارَتُهُمْ وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت چھوڑ کر گمراہی خریدی، تو نہ تو ان کی تجارت ہی نے کچھ نفع دیا اور نہ وہ ہدایت یاب ہی ہوئے
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
14آیت

ترجمہ — بقرہ 14

سورہ بقرہ آیت 14 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور یہ لوگ جب مومنوں سے ملتے ہیں تو کہتے…

سورہ آیت 14/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 12–16. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں