بقرہ · 15/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
اللَّهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَيَمُدُّهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ ۝١٥
Allahu yastahzi`u bihim wa yamudduhum fee tughyaanihim ya`mahoon
📖 اردو ترجمہ
ان (منافقوں) سے خدا ہنسی کرتا ہے اور انہیں مہلت دیئے جاتا ہے کہ شرارت وسرکشی میں پڑے بہک رہے ہیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • يَسْتَهْزِئُ: مذاق کرتا ہے، تمسخر کرتا ہے۔
  • يَمُدُّهُمْ: انہیں ڈھیل دیتا ہے، مہلت دیتا ہے۔
  • طُغْيَانِهِمْ: ان کی سرکشی اور حد سے تجاوز میں۔
  • يَعْمَهُونَ: حیران و پریشان، اندھے ہو کر بھٹکتے رہتے ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ ان منافقوں کے بارے میں فرماتا ہے کہ وہ جس طرح مؤمنین کا مذاق اڑاتے ہیں، اللہ ان کے ساتھ اسی طرح کا معاملہ فرماتا ہے۔ یعنی ان کے استہزاء کے بدلے میں اللہ انہیں ڈھیل دیتا ہے اور ان کی سرکشی میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ یہ اللہ کی طرف سے ایک طرح کی سزا ہے کہ وہ انہیں مہلت دیتا ہے تاکہ وہ اپنے کفر اور نفاق میں اور آگے بڑھیں، اور وہ حیران و پریشان ہو کر اندھوں کی طرح بھٹکتے رہیں۔

دنیا میں ان کے ساتھ مسلمانوں جیسا معاملہ کیا جاتا ہے، لیکن آخرت میں انہیں ان کے نفاق اور کفر کا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ یہ اللہ کا عدل ہے کہ وہ انہیں مہلت دیتا ہے، لیکن پکڑ جب آتی ہے تو بہت سخت ہوتی ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کبھی کسی کے ساتھ ظلم نہیں کرتا۔ جو لوگ دین کا مذاق اڑاتے ہیں یا مؤمنین کا استہزاء کرتے ہیں، انہیں اللہ کی طرف سے ڈھیل ملتی ہے، لیکن یہ ڈھیل ان کے لیے رحمت نہیں بلکہ عذاب کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم کبھی کسی کا مذاق نہ اڑائیں، خاص طور پر دین اور اہل ایمان کا۔ اللہ کی رحمت اور اس کا عذاب دونوں بہت قریب ہیں۔ آئیے ہم اپنے اعمال کا جائزہ لیں اور اللہ سے ڈرتے ہوئے نیک کاموں میں جلدی کریں، کیونکہ اللہ کی پکڑ بہت سخت ہے، لیکن اس کی رحمت بھی بے حد وسیع ہے۔ جو شخص اپنے گناہوں سے توبہ کر لے، اللہ اسے معاف فرما دیتا ہے اور اسے کبھی مایوس نہیں کرتا۔

🎧 سنیں

📜 آیت 13-17 — بقرہ

13وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ آمِنُوا كَمَا آمَنَ النَّاسُ قَالُوا أَنُؤْمِنُ كَمَا آمَنَ السُّفَهَاءُ ۗ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَاءُ وَلَٰكِن لَّا يَعْلَمُونَ
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جس طرح اور لوگ ایمان لے آئے، تم بھی ایمان لے آؤ تو کہتے ہیں، بھلا جس طرح بےوقوف ایمان لے آئے ہیں اسی طرح ہم بھی ایمان لے آئیں؟ سن لو کہ یہی بےوقوف ہیں لیکن نہیں جانتے
14وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلَوْا إِلَىٰ شَيَاطِينِهِمْ قَالُوا إِنَّا مَعَكُمْ إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِئُونَ
اور یہ لوگ جب مومنوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں، اور جب اپنے شیطانوں میں جاتے ہیں تو (ان سے) کہتے ہیں کہ ہم تمھارے ساتھ ہیں اور (پیروانِ محمدﷺ سے) تو ہم ہنسی کیا کرتے ہیں
15اللَّهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَيَمُدُّهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ
ان (منافقوں) سے خدا ہنسی کرتا ہے اور انہیں مہلت دیئے جاتا ہے کہ شرارت وسرکشی میں پڑے بہک رہے ہیں
16أُولَٰئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلَالَةَ بِالْهُدَىٰ فَمَا رَبِحَت تِّجَارَتُهُمْ وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت چھوڑ کر گمراہی خریدی، تو نہ تو ان کی تجارت ہی نے کچھ نفع دیا اور نہ وہ ہدایت یاب ہی ہوئے
17مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِي اسْتَوْقَدَ نَارًا فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ ذَهَبَ اللَّهُ بِنُورِهِمْ وَتَرَكَهُمْ فِي ظُلُمَاتٍ لَّا يُبْصِرُونَ
ان کی مثال اس شخص کی سی ہے کہ جس نے (شبِ تاریک میں) آگ جلائی۔ جب آگ نے اس کے اردگرد کی چیزیں روشن کیں تو خدا نے ان کی روشنی زائل کر دی اور ان کو اندھیروں میں چھوڑ دیا کہ کچھ نہیں دیکھتے
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
15آیت

ترجمہ — بقرہ 15

سورہ بقرہ آیت 15 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : ان (منافقوں) سے خدا ہنسی کرتا ہے اور انہیں مہلت…

سورہ آیت 15/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 13–17. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں