بقرہ · 225/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
لَّا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَٰكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا كَسَبَتْ قُلُوبُكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٌ ۝٢٢٥
Laa yu`aakhi zukumul laahu billaghwi feee aymaa nikum wa laakiny yu`aakhi zukum bimaa kasabat quloo bukum; wallaahu Ghafoorun Haleem
📖 اردو ترجمہ
خدا تمہاری لغو قسموں پر تم سے مواخذہ نہ کرے گا۔ لیکن جو قسمیں تم قصد دلی سے کھاؤ گے ان پر مواخذہ کرے گا۔ اور خدا بخشنے والا بردبار ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • لَغْو: بے مقصد اور فضول بات، جو زبان پر بغیر ارادے کے آجائے۔
  • أَيْمَان: قسمیں (جمع: یمین
  • كَسَبَتْ قُلُوبُكُمْ: جو تمہارے دلوں نے ارادہ کیا اور نیت کی۔
  • غَفُور: بہت معاف کرنے والا۔
  • حَلِيم: بردبار، جلدی عذاب نہ دینے والا۔

تفسیر آیت:

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بے حد مہربان اور شفیق ہے۔ وہ جاننے والا ہے کہ انسان کی زبان کبھی کبھی بلا ارادہ بول اٹھتی ہے، اس لیے وہ ان قسموں پر مؤاخذہ نہیں کرتا جو محض زبان سے نکل جائیں، بغیر کسی نیت اور ارادے کے۔ مثلاً کوئی شخص عادتاً کہہ دے "نہیں، واللہ" یا "ہاں، واللہ" جبکہ اس کے دل میں قسم کھانے کا کوئی تصور بھی نہ ہو۔ ایسی بے مقصد قسموں پر نہ کوئی کفارہ ہے، نہ کوئی سزا، نہ اللہ کی طرف سے کوئی گرفت۔ یہ اللہ کا فضل ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر یہ آسانی رکھی ہے۔

لیکن اصل گرفت اس بات پر ہے جو دل سے نکلے، جب انسان اپنے دل و جان سے کسی بات پر قسم کھائے، اس کا ارادہ ہو، نیت ہو، اور پھر وہ قسم توڑ دے تو اللہ تعالیٰ اس پر مؤاخذہ فرمائے گا۔ کیونکہ دل کی نیت اور ارادہ ہی انسان کے اعمال کی اصل ہے۔ اللہ تعالیٰ دلوں کے راز جانتا ہے، اس لیے وہ صرف ظاہری الفاظ نہیں دیکھتا بلکہ باطن کے ارادے کو بھی دیکھتا ہے۔

آخر میں اللہ تعالیٰ اپنی دو صفات بیان فرماتا ہے: غفور اور حلیم۔ یعنی وہ بہت معاف کرنے والا ہے، جو اپنے بندوں کی لغزشوں کو درگزر فرماتا ہے، اور وہ حلیم ہے یعنی بردبار، جلدی پکڑ نہیں کرتا، بندے کو مہلت دیتا ہے تاکہ وہ توبہ کر لے۔ یہ اللہ کی رحمت کا تقاضا ہے کہ وہ فوراً سزا نہیں دیتا بلکہ توبہ کا دروازہ کھلا رکھتا ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں اللہ تعالیٰ کی رحمت اور شفقت کا اندازہ ہوتا ہے۔ وہ اپنے بندوں کی کمزوریوں کو جانتا ہے اور ان پر آسانیاں رکھتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ اللہ سے کھیلنا نہیں چاہیے۔ جب ہم دل سے کوئی عہد کریں یا قسم کھائیں تو اسے پورا کرنا ہمارا فرض ہے۔ اگر کبھی غلطی ہوجائے تو اللہ معاف کرنے والا ہے، لیکن ہمیں جلدی سے توبہ کرنی چاہیے اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اسلام دین آسانی ہے، سختی نہیں، اور اللہ اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 223-227 — بقرہ

223نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّىٰ شِئْتُمْ ۖ وَقَدِّمُوا لِأَنفُسِكُمْ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّكُم مُّلَاقُوهُ ۗ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ
تمہاری عورتیں تمہارای کھیتی ہیں تو اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو جاؤ۔ اور اپنے لئے (نیک عمل) آگے بھیجو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ (ایک دن) تمہیں اس کے روبرو حاضر ہونا ہے اور (اے پیغمبر) ایمان والوں کو بشارت سنا دو
224وَلَا تَجْعَلُوا اللَّهَ عُرْضَةً لِّأَيْمَانِكُمْ أَن تَبَرُّوا وَتَتَّقُوا وَتُصْلِحُوا بَيْنَ النَّاسِ ۗ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
اور خدا (کے نام کو) اس بات کا حیلہ نہ بنانا کہ (اس کی) قسمیں کھا کھا کر سلوک کرنے اورپرہیزگاری کرنے اور لوگوں میں صلح و سازگاری کرانے سے رک جاؤ۔ اور خدا سب کچھ سنتا اور جانتا ہے
225لَّا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَٰكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا كَسَبَتْ قُلُوبُكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٌ
خدا تمہاری لغو قسموں پر تم سے مواخذہ نہ کرے گا۔ لیکن جو قسمیں تم قصد دلی سے کھاؤ گے ان پر مواخذہ کرے گا۔ اور خدا بخشنے والا بردبار ہے
226لِّلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِن نِّسَائِهِمْ تَرَبُّصُ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ ۖ فَإِن فَاءُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
جو لوگ اپنی عورتوں کے پاس جانے سے قسم کھالیں ان کو چار مہینے تک انتظار کرنا چاہیئے۔ اگر (اس عرصے میں قسم سے) رجوع کرلیں تو خدا بخشنے والا مہربان ہے
227وَإِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ فَإِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
اور اگر طلاق کا ارادہ کرلیں تو بھی خدا سنتا (اور) جانتا ہے
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
225آیت

ترجمہ — بقرہ 225

سورہ بقرہ آیت 225 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : خدا تمہاری لغو قسموں پر تم سے مواخذہ نہ کرے…

سورہ آیت 225/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 223–227. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں