Bi`samash taraw biheee anfusahum ai yakfuroo bimaaa anzalal laahu baghyan ai yunazzilal laahu min fadlilhee `alaa mai yashaaa`u min ibaadihee fabaaa`oo bighadabin `alaa ghadab; wa lilkaafireena `azaabum muheen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
جس چیز کے بدلے انہوں نے اپنے تئیں بیچ ڈالا، وہ بہت بری ہے، یعنی اس جلن سے کہ خدا اپنے بندوں میں جس پر چاہتا ہے، اپنی مہربانی سے نازل فرماتا ہے۔ خدا کی نازل کی ہوئی کتاب سے کفر کرنے لگے تو وہ (اس کے) غضب بالائے غضب میں مبتلا ہو گئے۔ اور کافروں کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
با خود، بد معاملهاى كردند آنگاه كه از حسد به كتاب خدا كافر شدند و از اينكه خدا فضل و كرم خويش را به هر كس از بندگان خود كه بخواهد ارزانى مىدارد حسد بردند و قرين خشمى افزون بر خشم ديگر شدند، و كافران را عذابى است خواركننده.
جس چیز کے بدلے انہوں نے اپنے تئیں بیچ ڈالا، وہ بہت بری ہے، یعنی اس جلن سے کہ خدا اپنے بندوں میں جس پر چاہتا ہے، اپنی مہربانی سے نازل فرماتا ہے۔ خدا کی نازل کی ہوئی کتاب سے کفر کرنے لگے تو وہ (اس کے) غضب بالائے غضب میں مبتلا ہو گئے۔ اور کافروں کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
بِئْسَمَا اشْتَرَوْا بِهِ أَنفُسَهُمْ: کتنا برا ہے وہ سودا جو انہوں نے اپنے لیے کیا (یعنی ایمان کے بدلے کفر خرید لیا)۔
بَغْيًا: ظلم و حسد کی بنا پر۔
فَبَاءُوا: واپس لوٹے، یعنی غضب الٰہی لے کر لوٹے۔
عَذَابٌ مُّهِينٌ: ذلت اور رسوائی والا عذاب۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں بنی اسرائیل کے اس قبیح رویے کی نشاندہی فرماتا ہے جب انہوں نے اپنے نفس کے لیے بدترین سودا چنا۔ انہوں نے ایمان کو چھوڑ کر کفر کو خرید لیا، اور اللہ کی نازل کردہ کتاب (قرآن مجید) کا انکار کیا۔ یہ انکار محض اس لیے تھا کہ انہیں حسد تھا کہ اللہ نے اپنے فضل و کرم سے نبوت اور کتاب اپنے بندے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائی، حالانکہ وہ جانتے تھے کہ آپ آخر الزمان کے نبی ہیں، لیکن اپنی ضد اور بغاوت کی وجہ سے انہوں نے حق کو قبول نہ کیا۔
یہی حسد اور ظلم ان کے لیے باعثِ عذاب بنا۔ وہ اللہ کے غضب پر غضب لے کر لوٹے — پہلا غضب ان پر تورات کو تحریف کرنے اور احکام الٰہی کو بدلنے کی وجہ سے تھا، اور دوسرا غضب محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ لانے کی وجہ سے۔ اس طرح انہوں نے اپنے لیے دوہرا عذاب مول لیا۔ اور جو لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا انکار کریں گے، ان کے لیے قیامت کے دن ذلت اور رسوائی کا عذاب تیار ہے، جس میں وہ ہمیشہ ذلیل و خوار ہوں گے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ حسد اور تکبر انسان کو حق سے اندھا کر دیتا ہے۔ بنی اسرائیل نے اپنے علم کے باوجود حق کو قبول نہ کیا، اور یہی ان کی تباہی کا سبب بنا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دلوں کو حسد اور بغض سے پاک رکھیں، کیونکہ یہی وہ بیماریاں ہیں جو انسان کو اللہ کے فضل سے محروم کر دیتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ہمیں قرآن اور سنت عطا کی ہے، ہمیں اس نعمت کی قدر کرنی چاہیے اور اس پر عمل کرتے ہوئے اللہ کی رحمت کے طالب بننا چاہیے، تاکہ ہم اس ذلت والے عذاب سے بچ سکیں اور اللہ کی خوشنودی حاصل کر سکیں۔ یاد رکھیں، اللہ کا فضل اسی پر ہوتا ہے جو اس کا اہل بنتا ہے، اور اہل بننے کا راستہ ایمان، اخلاص اور اتباعِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔
اور جب الله کے ہاں سے ان کے پاس کتاب آئی جو ان کی (آسمانی) کتاب کی بھی تصدیق کرتی ہے، اور وہ پہلے (ہمیشہ) کافروں پر فتح مانگا کرتے تھے، تو جس چیز کو وہ خوب پہچانتے تھے، جب ان کے پاس آپہنچی تو اس سے کافر ہو گئے۔ پس کافروں پر الله کی لعنت
جس چیز کے بدلے انہوں نے اپنے تئیں بیچ ڈالا، وہ بہت بری ہے، یعنی اس جلن سے کہ خدا اپنے بندوں میں جس پر چاہتا ہے، اپنی مہربانی سے نازل فرماتا ہے۔ خدا کی نازل کی ہوئی کتاب سے کفر کرنے لگے تو وہ (اس کے) غضب بالائے غضب میں مبتلا ہو گئے۔ اور کافروں کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) خدا نے (اب) نازل فرمائی ہے، اس کو مانو۔ تو کہتے ہیں کہ جو کتاب ہم پر (پہلے) نازل ہو چکی ہے، ہم تو اسی کو مانتے ہیں۔ (یعنی) یہ اس کے سوا کسی اور (کتاب) کو نہیں مانتے، حالانکہ وہ (سراسر) سچی ہے اور جو ان کی (آسمانی) کتاب ہے، اس کی بھی تصدیق کرتی ہے۔ (ان سے) کہہ دو کہ اگر تم صاحبِ ایمان ہوتے تو الله کے پیغمبروں کو پہلے ہی کیوں قتل کیا کرتے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔