انبیاء · 71/112
ترجمہ تلفظ — انبیاء
وَنَجَّيْنَاهُ وَلُوطًا إِلَى الْأَرْضِ الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا لِلْعَالَمِينَ ۝٧١
Wa najjainaahu wa Lootan ilal ardil latee baaraknaa feehaa lil `aalameen
📖 اردو ترجمہ
اور ابراہیم اور لوط کو اس سرزمین کی طرف بچا نکالا جس میں ہم نے اہل عالم کے لئے برکت رکھی تھی
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • نَجَّیْنَا: ہم نے نجات دی۔
  • لُوطًا: حضرت لوط علیہ السلام، جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے اور ایمان لانے والوں میں سے تھے۔
  • الْأَرْضِ الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا: وہ زمین جسے ہم نے برکت دی، یعنی ارضِ شام (ملکِ شام، فلسطین، اردن، لبنان اور شام کا علاقہ

تفسیر:

اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ اپنے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے ساتھ ایمان لانے والے حضرت لوط علیہ السلام کی عظیم نجات کا ذکر فرما رہے ہیں۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو نمرود کے ظالم معاشرے اور آگ کے اس عظیم امتحان سے نجات ملی، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اور حضرت لوط علیہ السلام کو عراق (بابل) سے نکال کر ایک مبارک سرزمین کی طرف ہجرت کا حکم دیا۔ یہ سرزمین ارضِ شام تھی، جسے اللہ تعالیٰ نے دنیا کے لیے برکتوں کا مرکز بنایا۔

اس زمین کی برکتیں متعدد ہیں: یہاں کی سرزمین زرخیز ہے، پھل پھول اور نہریں کثرت سے ہیں، لیکن سب سے بڑی برکت یہ ہے کہ اس سرزمین سے اللہ تعالیٰ نے بے شمار انبیاء علیہم السلام مبعوث فرمائے۔ حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق، حضرت یعقوب، حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ، حضرت داؤد، حضرت سلیمان اور آخر میں خاتم الانبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر بھی اس سرزمین سے وابستہ ہے۔ یہ وہ مقدس خطہ ہے جہاں مسجد اقصیٰ واقع ہے، جہاں انبیاء کے مقامات ہیں، اور جہاں قیامت کے قریب عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے۔

یہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو نہ صرف ظالم قوم سے نجات دی بلکہ انہیں ایک ایسی سرزمین میں بسایا جہاں ان کی نسل سے انبیاء کا سلسلہ جاری رہا۔ یہ اللہ کا خاص فضل اور انعام تھا کہ انہیں ہجرت کے بعد عزت، امن اور برکت والی جگہ ملی۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ اولاً، اللہ تعالیٰ اپنے مخلص بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کی راہ میں سب کچھ قربان کر دیا، تو اللہ نے انہیں بہتر بدلہ دیا۔ ثانیاً، ہجرت اور قربانی کے بعد اللہ کی برکتیں نصیب ہوتی ہیں۔ بعض اوقات اللہ تعالیٰ بندے کو ایک جگہ سے نکال کر دوسری جگہ بہتر رزق اور امن دیتا ہے۔ ثالثاً، یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ کی زمین وسیع ہے، جب کسی جگہ دین پر عمل مشکل ہو تو ہجرت کر کے دین کو بچانا چاہیے۔ آج بھی جو لوگ اللہ کی راہ میں نکلتے ہیں، اللہ انہیں برکتوں سے نوازتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں میں اللہ پر بھروسہ رکھیں، کیونکہ وہی بہترین نجات دینے والا اور برکتوں کا مالک ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 69-73 — انبیاء

69قُلْنَا يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ
ہم نے حکم دیا اے آگ سرد ہوجا اور ابراہیم پر (موجب) سلامتی (بن جا)
70وَأَرَادُوا بِهِ كَيْدًا فَجَعَلْنَاهُمُ الْأَخْسَرِينَ
اور ان لوگوں نے برا تو ان کا چاہا تھا مگر ہم نے ان ہی کو نقصان میں ڈال دیا
71وَنَجَّيْنَاهُ وَلُوطًا إِلَى الْأَرْضِ الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا لِلْعَالَمِينَ
اور ابراہیم اور لوط کو اس سرزمین کی طرف بچا نکالا جس میں ہم نے اہل عالم کے لئے برکت رکھی تھی
72وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ نَافِلَةً ۖ وَكُلًّا جَعَلْنَا صَالِحِينَ
اور ہم نے ابراہیم کو اسحق عطا کئے۔ اور مستزاد برآں یعقوب۔ اور سب کو نیک بخت کیا
73وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا وَأَوْحَيْنَا إِلَيْهِمْ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ وَإِقَامَ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءَ الزَّكَاةِ ۖ وَكَانُوا لَنَا عَابِدِينَ
اور ان کو پیشوا بنایا کہ ہمارے حکم سے ہدایت کرتے تھے اور ان کو نیک کام کرنے اور نماز پڑھنے اور زکوٰة دینے کا حکم بھیجا۔ اور وہ ہماری عبادت کیا کرتے تھے
انبیاءقرآن فہرست
112آیت
مکیRevelation
71آیت

ترجمہ — انبیاء 71

سورہ انبیاء آیت 71 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور ابراہیم اور لوط کو اس سرزمین کی طرف بچا…

سورہ آیت 71/112 — انبیاء الأنبياء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انبیاء سنیں, انبیاء ترجمہ, انبیاء mp3, انبیاء pdf. آیت 69–73. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں