ترجمہ — Tafsir
وَلِسُلَيْمَانَ الرِّيحَ عَاصِفَةً تَجْرِي بِأَمْرِهِ إِلَى الْأَرْضِ الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا ۚ وَكُنَّا بِكُلِّ شَيْءٍ عَالِمِينَ
معانی الفاظ:
- عَاصِفَةً: شدید چلنے والی، تیز رفتار ہوا۔
- تَجْرِي بِأَمْرِهِ: اس کے حکم سے چلتی ہے۔
- الْأَرْضِ الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا: وہ زمین جسے ہم نے برکت دی، یعنی سرزمین شام (بیت المقدس)۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت سلیمان علیہ السلام کو بے شمار عظیم نعمتیں عطا فرمائیں، جن میں سے ایک نمایاں معجزہ ہوا کا مسخر کرنا تھا۔ اللہ نے تیز و تند چلنے والی ہوا کو ان کے تابع فرما دیا، جو ان کے حکم سے چلتی تھی اور انہیں اور ان کے ساتھیوں کو اٹھا کر اس سرزمینِ مبارک (شام) تک لے جاتی تھی، جسے اللہ نے اپنی برکات سے نوازا تھا۔ یہاں انبیاء کرام مبعوث ہوئے، خیر و برکت کی بارشیں ہوئیں، اور یہ زمین دین و دنیا کی برکتوں کا مرکز بنی۔
یہ اللہ کی قدرت کا ایک عظیم نمونہ ہے کہ وہ ہوا جیسی نادیدہ اور بے اختیار چیز کو اپنے نیک بندے کے تابع کر دیتا ہے، تاکہ وہ اپنے دین کے کاموں میں آسانی سے سفر کر سکے اور لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچا سکے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم ہر چیز سے خوب واقف ہیں، ہم جانتے ہیں کہ کس بندے کو کون سی نعمت دینی ہے، اور ہمارا علم ہر چیز کو محیط ہے، کوئی چیز ہم سے پوشیدہ نہیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کو چاہتا ہے تو اس کے لیے کائنات کی قوتوں کو مسخر کر دیتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ سے تعلق مضبوط کریں، اپنے اعمال کو سنواریں، اور اللہ کی قدرت پر کامل یقین رکھیں۔ اگر ہم اللہ کے حکموں پر چلیں تو وہ ہمارے لیے بھی وہ راستے کھول دے گا جن کا ہمیں گمان بھی نہ ہوگا۔ یہ آیت ہمیں اللہ کی عظمت اور اس کے نیک بندوں پر فضل و کرم کا یقین دلاتی ہے، اور ہمیں ترغیب دیتی ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کو اللہ کی اطاعت میں گزاریں تاکہ ہم بھی اس کی برکتوں کے مستحق بنیں۔
📜 آیت 79-83 — انبیاء
ترجمہ — انبیاء 81
سورہ انبیاء آیت 81 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور ہم نے تیز ہوا سلیمان کے تابع (فرمان) کردی…سورہ آیت 81/112 — انبیاء الأنبياء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انبیاء سنیں, انبیاء ترجمہ, انبیاء mp3, انبیاء pdf. آیت 79–83. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








