ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا: اپنی شرمگاہ کو حرام سے محفوظ رکھا۔
- فَنَفَخْنَا فِيهَا مِن رُّوحِنَا: ہم نے اس میں اپنی روح (یعنی روحِ عیسیٰ علیہ السلام) پھونکی، یعنی جبرائیل علیہ السلام کے ذریعے یہ نفخ کیا۔
- آيَةً لِّلْعَالَمِينَ: تمام جہانوں کے لیے نشانی اور عبرت۔
تفسیر:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم علیہا السلام کا ذکرِ جمیل فرمایا ہے، جو تمام عورتوں کے لیے عفت و پاکدامنی کی اعلیٰ مثال ہیں۔ انہوں نے اپنی شرمگاہ کو ہر قسم کے حرام اور ناجائز تعلق سے مکمل طور پر محفوظ رکھا، اور اپنی زندگی کو تقویٰ اور عبادت میں گزاریا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس پاکیزگی اور خلوص کے صلے میں ایک عظیم معجزہ ظاہر فرمایا۔
جب اللہ نے ارادہ کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر باپ کے پیدا کر کے اپنی قدرتِ کاملہ کا نمونہ دکھائے، تو جبرائیل علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ حضرت مریم کے پاس جائیں اور ان کے گریبان میں پھونک ماریں۔ یہ پھونک اللہ کے حکم سے ان کے رحم تک پہنچی، اور اس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا حمل ٹھہر گیا۔ یہ کوئی عام بات نہ تھی، بلکہ اللہ کی قدرت کا ایک عظیم شاہکار تھا کہ ایک پاک دامن کنواری عورت کے بطن سے بغیر کسی مرد کے بچہ پیدا ہوا۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم اور ان کے بیٹے حضرت عیسیٰ علیہما السلام کو تمام جہانوں کے لیے ایک نشانی بنایا۔ یہ نشانی اس بات کی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے، وہ جب چاہتا ہے کسی بھی چیز کو پیدا کر سکتا ہے، اس کے لیے کوئی سبب ضروری نہیں۔ جس طرح آدم علیہ السلام کو بغیر ماں باپ کے پیدا کیا، حوا کو بغیر ماں کے پیدا کیا، اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر باپ کے پیدا کیا، تاکہ لوگ اللہ کی قدرت کے آگے سر تسلیم خم کریں اور سمجھیں کہ اللہ کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ سب سے پہلا سبق یہ ہے کہ عفت و پاکدامنی کی برکت کتنی عظیم ہے۔ حضرت مریم علیہا السلام نے اپنی عفت کی وجہ سے ایسا مقام پایا کہ اللہ نے انہیں تمام جہانوں کی عورتوں سے افضل بنایا اور ان کے ذریعے ایک عظیم نبی کو پیدا کیا۔ آج کے دور میں جب فحاشی اور بے حیائی عام ہو رہی ہے، ہمیں حضرت مریم علیہا السلام کی سیرت سے روشنی لینی چاہیے اور اپنی بیٹیوں اور خواتین کو عفت و حیا کی تعلیم دینی چاہیے۔
دوسرا سبق یہ ہے کہ اللہ کی قدرت کے آگے کوئی چیز مشکل نہیں۔ جب اللہ کسی کام کا ارادہ کر لیتا ہے تو وہ اسے کر کے ہی رہتا ہے، چاہے وہ اسباب کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ ہمیں اپنی زندگیوں میں اللہ پر مکمل بھروسہ رکھنا چاہیے، کیونکہ وہی ہر مشکل کو آسان کرنے والا ہے۔
تیسرا سبق یہ ہے کہ اللہ اپنے نیک بندوں کی عزت کرتا ہے اور انہیں دنیا میں بھی بلند مقام دیتا ہے۔ حضرت مریم علیہا السلام کو دنیا میں بھی عزت ملی اور آخرت میں بھی ان کا مقام بلند ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم نیکی اور تقویٰ کی راہ اختیار کریں، کیونکہ یہی کامیابی کا راستہ ہے۔
📜 آیت 89-93 — انبیاء
ترجمہ — انبیاء 91
سورہ انبیاء آیت 91 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور ان (مریم) کو (بھی یاد کرو) جنہوں نے اپنی…سورہ آیت 91/112 — انبیاء الأنبياء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انبیاء سنیں, انبیاء ترجمہ, انبیاء mp3, انبیاء pdf. آیت 89–93. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








