ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- أَمْ: یہاں استفہامیہ ہے، یعنی "کیا"۔
- یَعْرِفُوا: جانتے ہیں، پہچانتے ہیں۔
- رَسُولَهُمْ: ان کا رسول (حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم)۔
- مُنکِرُونَ: انکار کرنے والے، جھٹلانے والے۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں کفارِ مکہ کو مخاطب کر کے ان پر سخت تنبیہ فرماتا ہے کہ کیا انہوں نے اپنے رسول کو نہیں پہچانا؟ حالانکہ وہ انہیں اچھی طرح جانتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چالیس سال کی عمر تک مکہ ہی میں رہے، ان کی سیرت، صداقت اور امانت ہر کسی پر ظاہر تھی۔ وہ "الصادق" اور "الامین" کے لقب سے مشہور تھے۔ جب انہوں نے نبوت کا اعلان کیا تو کفار نے ان کا انکار کر دیا، حالانکہ وہ جانتے تھے کہ وہ جھوٹ نہیں بول سکتے۔
یہ آیت ان لوگوں کے لیے ایک عظیم سبق ہے کہ حق کو پہچاننے کے بعد اس کا انکار کرنا انتہائی سخت جرم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں یاد دلایا کہ تمہارے پاس کوئی عذر نہیں، کیونکہ تم نے انہیں پہچان رکھا تھا۔ یہ توبیخ اس لیے ہے کہ وہ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے حق سے منہ موڑ رہے تھے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو پڑھنا چاہیے اور ان کی تعلیمات پر عمل کرنا چاہیے۔ جو شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچان لے، وہ کبھی ان کا انکار نہیں کر سکتا۔ آج بھی جو لوگ اسلام کے بارے میں غلط فہمی رکھتے ہیں، وہ دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو نہیں پڑھتے۔ اگر وہ سیرت کا مطالعہ کریں تو انہیں یقین آ جائے گا کہ یہ سچے نبی ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے پیارے نبی کی محبت کو دل میں بٹھائیں اور ان کے بتائے ہوئے راستے پر چلیں، کیونکہ یہی کامیابی کا راستہ ہے۔
📜 آیت 67-71 — مؤمنون
ترجمہ — مؤمنون 69
سورہ آیت 69/118 — مؤمنون المؤمنون (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: مؤمنون سنیں, مؤمنون ترجمہ, مؤمنون mp3, مؤمنون pdf. آیت 67–71. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








