ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- صَدِیقٍ: وہ دوست جو تمہارے ساتھ محبت اور خلوص سے پیش آئے۔
- حَمِیمٍ: قریبی اور مخلص دوست، جو دل کی گہرائیوں سے محبت کرے اور مصیبت میں کام آئے۔
تفسیر:
یہ آیت ان لوگوں کے حال کا بیان کر رہی ہے جو قیامت کے دن اپنے انجام سے خوفزدہ ہوں گے۔ وہ کہیں گے کہ آج نہ کوئی ہمدرد دوست ہے جو ہماری سفارش کرے، نہ کوئی قریبی رشتہ دار جو ہماری مدد کو آئے۔ اس دن دوستی اور رشتہ داری کا کوئی فائدہ نہ ہوگا، کیونکہ ہر شخص اپنی فکر میں ڈوبا ہوگا۔
یہاں "صَدِیقٍ حَمِیمٍ" سے مراد وہ دوست ہے جو سچی محبت رکھتا ہو اور مصیبت کے وقت ساتھ دے۔ لیکن قیامت کے دن ایسا کوئی نہیں ملے گا، کیونکہ وہاں صرف اعمال کا حساب ہوگا، نہ نسبتیں کام آئیں گی نہ دوستیاں۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں غور کرنے کی دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنی زندگی میں کسے اپنا حقیقی دوست بنائیں؟ کیا وہ دوست جو صرف دنیا میں کام آئے، یا وہ رب جو آخرت میں بھی کام آئے؟ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ہمیں بتایا ہے کہ مومنوں کے لیے قیامت کے دن سب سے بڑی خوشی یہ ہوگی کہ ان کے ساتھ نیک لوگ ہوں گے، اور اللہ کی رحمت انہیں گھیر لے گی۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اپنی دوستیوں کو اللہ کی رضا پر قائم کریں، تاکہ وہ دوستی آخرت میں بھی ہمارے کام آئے۔ جو لوگ دنیا میں صرف اللہ کے لیے محبت کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں قیامت کے دن اپنے سایے میں جگہ دے گا، جب کوئی اور سایہ نہ ہوگا۔
📜 آیت 99-103 — شعراء
ترجمہ — شعراء 101
سورہ شعراء آیت 101 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور نہ گرم جوش دوستسورہ آیت 101/227 — شعراء الشعراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شعراء سنیں, شعراء ترجمہ, شعراء mp3, شعراء pdf. آیت 99–103. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








