ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- فُلْک: کشتی، بحری جہاز۔
- مَشْحُون: بھرا ہوا، لبریز، جو ہر قسم کی مخلوقات سے معمور ہو۔
تفسیرِ آیہ:
جب حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کی طرف سے مایوس ہو کر دعا فرمائی کہ اے میرے رب! میں مغلوب ہو چکا ہوں، تو ہم نے ان کی دعا قبول فرمائی اور انہیں اور ان کے ساتھیوں کو اس کشتی میں نجات عطا کی جو ہر قسم کی مخلوقات سے بھری ہوئی تھی۔ اس کشتی میں نہ صرف ایمان لانے والے انسان تھے بلکہ ہر جاندار کی ایک جوڑی بھی تھی، تاکہ طوفان کے بعد زمین پر زندگی کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو سکے۔
یہ اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت اور اپنے نیک بندوں کی مدد کا مظہر ہے۔ جب پوری قوم نے حق کو جھٹلایا اور سرکشی پر اڑی رہی، تو اللہ نے اپنے نبی اور ان کے ساتھیوں کو اس طوفان سے محفوظ رکھا جو ساری دنیا پر آیا۔ یہ نجات صرف اس لیے تھی کہ وہ لوگ ایمان لائے تھے اور اپنے نبی کے ساتھ ثابت قدم رہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے مخلص بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ جب انسان ایمان کی کشتی میں سوار ہو جاتا ہے اور اللہ کی اطاعت کو اپنا ذریعہ نجات بناتا ہے، تو اللہ اسے ہر مشکل اور طوفان سے محفوظ رکھتا ہے۔ آج بھی جو لوگ قرآن اور سنت کی کشتی میں سوار ہوتے ہیں، اللہ انہیں گمراہی، فتنوں اور عذاب سے بچاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم حضرت نوح علیہ السلام کی طرح صبر اور استقامت کا مظاہرہ کریں اور اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہوں، کیونکہ اللہ کی مدد صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
📜 آیت 117-121 — شعراء
ترجمہ — شعراء 119
سورہ شعراء آیت 119 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : پس ہم نے ان کو اور جو ان کے ساتھ…سورہ آیت 119/227 — شعراء الشعراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شعراء سنیں, شعراء ترجمہ, شعراء mp3, شعراء pdf. آیت 117–121. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








