ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- فَافْتَحْ: فیصلہ فرما، حکم صادر فرما
- فَتْحًا: فیصلہ، حکمِ قطعی
- وَنَجِّنِي: مجھے نجات دے، بچا لے
تفسیرِ آیہ:
حضرت نوح علیہ السلام نے جب اپنی قوم کی طرف سے مکمل طور پر مایوسی اور شدید مخالفت دیکھ لی، اور انہوں نے اپنی قوم کو سمجھانے کے لیے ہر ممکن طریقہ آزما لیا، تو وہ بارگاہِ الٰہی میں گریہ و زاری کے ساتھ دعا کرتے ہوئے عرض کرنے لگے: "اے میرے رب! تو میرے اور میری قوم کے درمیان فیصلہ فرما دے، ایسا فیصلہ جو حق و باطل کے درمیان واضح حد فاصل قائم کر دے۔"
یہ دعا دراصل ایک مظلوم نبی کی اپنے رب کے حضور التجا تھی، جو اپنی قوم کی طرف سے مسلسل تکذیب، استہزاء اور ایذاء سے تنگ آچکے تھے۔ انہوں نے اپنے رب سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کے اور ان کی قوم کے درمیان حتمی فیصلہ فرمائے، کیونکہ وہ قوم حق کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھی اور باطل پر اصرار کر رہی تھی۔
پھر انہوں نے اپنی دعا میں یہ بھی شامل کیا: "اور مجھے اور میرے ساتھ موجود تمام مومنین کو نجات عطا فرما۔" یعنی اے رب! جس طرح تو عادل ہے اور حق و باطل کے درمیان فیصلہ کرنے والا ہے، اسی طرح اپنی رحمت سے ہمیں ان ظالموں کے شر سے، ان کے عذاب سے، اور ان کے انجامِ بد سے محفوظ فرما۔
یہ دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ جب انسان اپنی اصلاح کی تمام کوششیں کر لے اور پھر بھی مخالفین باطل پر اصرار کریں، تو اسے چاہیے کہ وہ اللہ کی طرف رجوع کرے اور اس سے فیصلہ طلب کرے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا، وہ انہیں ہر مصیبت سے نجات دیتا ہے۔
یہ دعا مومنین کے لیے ایک عظیم سبق ہے کہ ہمیں ہمیشہ اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے، اور جب حالات مشکل ہوں تو اس کی بارگاہ میں دعا کریں، کیونکہ وہی حقیقی فیصلہ کرنے والا اور نجات دینے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی دعائیں سنتا ہے اور انہیں کبھی مایوس نہیں کرتا۔
📜 آیت 116-120 — شعراء
ترجمہ — شعراء 118
سورہ شعراء آیت 118 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : سو تو میرے اور ان کے درمیان ایک کھلا فیصلہ…سورہ آیت 118/227 — شعراء الشعراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شعراء سنیں, شعراء ترجمہ, شعراء mp3, شعراء pdf. آیت 116–120. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








