ترجمہ — Tafsir
فَأَخَذَهُمُ الْعَذَابُ ۗ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ
معانی الفاظ:
- فَأَخَذَهُمُ الْعَذَابُ: پس انہیں عذاب نے آ لیا۔
- لَآيَةً: ضرور عبرت اور نشانی ہے۔
- مُّؤْمِنِينَ: ایمان لانے والے۔
تفسیر:
جب حضرت صالح علیہ السلام کی قوم ثمود نے اپنی سرکشی اور ضد پر اصرار کیا، اللہ تعالیٰ کے نبی کو جھٹلایا اور معجزہ کے باوجود ایمان نہ لائی، تو ان پر وہ عذاب نازل ہوا جس کا انہیں وعدہ دیا گیا تھا۔ یہ عذاب زلزلہ اور چیخ (صیحہ) کی صورت میں آیا جس نے انہیں اپنی گرفت میں لے لیا اور ان کی تمام طاقت و شوکت خاک میں مل گئی۔ وہ قوم جو پہاڑوں کو تراش کر عظیم مکانات بناتی تھی، ایک لمحے میں تباہ و برباد ہو گئی۔
اس واقعہ میں اہل ایمان کے لیے بڑی نشانی اور عبرت ہے کہ اللہ کا عذاب جب آتا ہے تو کسی کی طاقت اسے روک نہیں سکتی۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ ایمان لانے والے نہ تھے، بلکہ وہ کفر اور انکار پر ہی ڈٹے رہے۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں غور و فکر کی دعوت دیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی سنت کبھی نہیں بدلتی۔ جو قومیں اپنے انبیاء کو جھٹلاتی ہیں اور حق کو قبول کرنے سے انکار کرتی ہیں، ان کا انجام تباہی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ آج بھی جو لوگ قرآن اور سنت پر عمل کرنے سے گریز کرتے ہیں، وہ اپنے لیے اللہ کے عذاب کا سامان کر رہے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ان قوموں کے انجام سے سبق حاصل کریں اور اپنی زندگیوں کو اللہ کے احکام کے مطابق ڈھالیں۔ ایمان وہ واحد راستہ ہے جو انسان کو دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی عطا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ایمان کی دولت سے نوازیں اور ہمیں ان لوگوں میں شامل فرمائے جو حق کو قبول کرتے ہیں اور اس پر ثابت قدم رہتے ہیں۔ آمین۔
📜 آیت 156-160 — شعراء
ترجمہ — شعراء 158
سورہ شعراء آیت 158 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : سو ان کو عذاب نے آن پکڑا۔ بےشک اس میں…سورہ آیت 158/227 — شعراء الشعراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شعراء سنیں, شعراء ترجمہ, شعراء mp3, شعراء pdf. آیت 156–160. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








