ہم اس بستی کے رہنے والوں پر اس سبب سے کہ یہ بدکرداری کرتے رہے ہیں آسمان سے عذاب نازل کرنے والے ہیں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
رِجزًا: عذاب، سزا اور پریشانی۔
یفسقون: نافرمانی کرتے ہیں، گناہوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کے بارے میں بتا رہے ہیں کہ جب انہوں نے اپنی سرکشی اور نافرمانی کی انتہا کر دی، اور اپنے گھناؤنے عمل (بدکاری) پر اصرار کیا، تو اللہ نے اپنے فرشتوں کے ذریعے حضرت لوط علیہ السلام کو یہ پیغام بھیجا کہ ہم اس بستی والوں پر آسمان سے عذاب نازل کرنے والے ہیں۔ یہ عذاب پکی ہوئی مٹی کے پتھروں کی صورت میں تھا، جو ان پر برسایا گیا۔ یہ سزا ان کی اس شرمناک حرکت اور اللہ کی حدود سے تجاوز کرنے کی وجہ سے تھی، کیونکہ وہ فطرت کے خلاف کام کرتے تھے اور اللہ کی رحمت سے محروم ہو چکے تھے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ انتہائی رحم فرمانے والا ہے، لیکن جب بندے حد سے تجاوز کر جائیں اور اپنے گناہوں پر اصرار کریں، تو اس کا عذاب بھی بہت سخت ہوتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کی نافرمانی سے بچیں، اپنے اعمال کا محاسبہ کریں، اور اپنی زندگیوں کو اللہ کے بتائے ہوئے راستے پر چلائیں۔ یہ آیت ہمیں ڈراتی ہے کہ گناہوں کا انجام برا ہوتا ہے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی سکھاتی ہے کہ اللہ کی رحمت توبہ کرنے والوں کے لیے ہمیشہ کھلی ہے۔ آئیے ہم اپنی زندگیوں کو پاکیزہ بنائیں، اللہ کے احکامات پر عمل کریں، اور اپنے معاشرے کو فساد اور برائیوں سے پاک کریں، تاکہ ہم اللہ کے عذاب سے محفوظ رہیں اور اس کی رحمت کے مستحق بنیں۔
ابراہیم نے کہا کہ اس میں تو لوط بھی ہیں۔ وہ کہنے لگے کہ جو لوگ یہاں (رہتے) ہیں ہمیں سب معلوم ہیں۔ ہم اُن کو اور اُن کے گھر والوں کو بچالیں گے بجز اُن کی بیوی کے وہ پیچھے رہنے والوں میں ہوگی
اور جب ہمارے فرشتے لوط کے پاس آئے تو وہ اُن (کی وجہ) سے ناخوش اور تنگ دل ہوئے۔ فرشتوں نے کہا کچھ خوف نہ کیجئے۔ اور نہ رنج کیجئے ہم آپ کو اور آپ کے گھر والوں کو بچالیں گے مگر آپ کی بیوی کہ پیچھے رہنے والوں میں ہوگی
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔