آل عمران · 185/200
ترجمہ تلفظ — آل عمران
كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ۗ وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۖ فَمَن زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ ۗ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ ۝١٨٥
Kulu nafsin zaaa`iqatul mawt; wa innamaa tuwaffawna ujoorakum Yawmal Qiyaamati faman zuhziha `anin Naari waudkhilal Jannata faqad faaz; wa mal hayaatud dunyaaa illaa mataa`ul ghuroor
📖 اردو ترجمہ
ہر متنفس کو موت کا مزا چکھنا ہے اور تم کو قیامت کے دن تمہارے اعمال کا پورا پورا بدلا دیا جائے گا۔ تو جو شخص آتش جہنم سے دور رکھا گیا اور بہشت میں داخل کیا گیا وہ مراد کو پہنچ گیا اور دنیا کی زندگی تو دھوکے کا سامان ہے

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • ذَائِقَةُ الْمَوْتِ: موت کا مزہ چکھنے والی، یعنی موت کا تجربہ کرنے والی۔
  • تُوَفَّوْنَ: تمہیں پورا پورا دیا جائے گا، بلا کمی کے۔
  • أُجُورَكُمْ: تمہارے اعمال کے بدلے، تمہاری جزا۔
  • زُحْزِحَ: دور کر دیا گیا، ہٹا دیا گیا۔
  • مَتَاعُ الْغُرُورِ: دھوکے کا سامان، عارضی فائدہ جو حقیقت میں فریب ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اس آیت میں ہمیں ایک انتہائی اہم حقیقت سے آگاہ فرما رہے ہیں جو ہر انسان کے لیے لازم ہے۔ فرمایا: "ہر نفس موت کا مزہ چکھنے والا ہے" یعنی کوئی بھی جاندار، چاہے وہ بادشاہ ہو یا غریب، امیر ہو یا فقیر، طاقتور ہو یا کمزور، اس دنیا میں ہمیشہ نہیں رہے گا۔ موت ایک ایسی حقیقت ہے جس سے کوئی بھی نہیں بچ سکتا۔ یہ بات ہمیں اس دنیا کی عارضی محبتوں اور خوشیوں سے بے نیاز کرتی ہے اور آخرت کی یاد دلاتی ہے۔

پھر فرمایا: "اور تمہیں تمہارے اعمال کا پورا پورا بدلہ قیامت کے دن دیا جائے گا" یعنی یہ دنیا دارالعمل ہے اور آخرت دارالجزا۔ اس دنیا میں جو کچھ بھی ہم کرتے ہیں، اس کا مکمل حساب قیامت کے دن ہوگا۔ نیکی کا بدلہ نیکی اور برائی کا بدلہ برائی، اللہ تعالیٰ کسی کے ساتھ ظلم نہیں کرے گا۔ یہاں پر نیکیوں کا ثواب اور گناہوں کی سزا دونوں مکمل اور وافر مقدار میں دی جائیں گی۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے کامیابی کا معیار بیان فرمایا: "جس شخص کو آگ (جہنم) سے دور رکھا گیا اور جنت میں داخل کیا گیا، وہ واقعی کامیاب ہو گیا" یعنی اصل کامیابی وہ نہیں جو دنیا میں مال و دولت، عزت و شہرت حاصل کرنے سے ملتی ہے، بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان جہنم کے عذاب سے بچ جائے اور جنت کی ابدی نعمتوں کا حقدار بن جائے۔ یہی وہ عظیم کامیابی ہے جس کے لیے ہمیں کوشش کرنی چاہیے۔

آخر میں اللہ تعالیٰ نے ایک بہت ہی سبق آموز بات فرمائی: "اور دنیا کی زندگی تو محض دھوکے کا سامان ہے" یعنی یہ دنیا اپنی تمام تر رونقوں، خوشحالیوں اور لذتوں کے باوجود صرف ایک عارضی چیز ہے۔ یہ ایک مسافر کی منزل کی طرح ہے جو تھوڑی دیر کے لیے رکتا ہے اور پھر آگے بڑھ جاتا ہے۔ جو لوگ اس دنیا کو ہی سب کچھ سمجھ بیٹھتے ہیں اور آخرت کو بھول جاتے ہیں، وہ دراصل دھوکے میں مبتلا ہیں۔

دعوتی پہلو:

پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمارے لیے ایک بیداری کا پیغام ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس دنیا کی عارضی لذتوں سے دھوکہ نہ کھائیں اور اپنی اصل منزل یعنی آخرت کو یاد رکھیں۔ موت ایک حقیقت ہے جو کسی کو نہیں چھوڑتی، اس لیے ہمیں ہر لمحہ اس کی تیاری کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن اور سنت کے ذریعے راستہ دکھا دیا ہے، بس ہمیں اس پر چلنے کی ضرورت ہے۔ جو شخص اپنی زندگی کو اللہ کی رضا کے مطابق گزارے گا، وہ قیامت کے دن جہنم سے بچ کر جنت میں داخل ہوگا اور یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ آئیے ہم سب اس عظیم کامیابی کو حاصل کرنے کے لیے اپنی زندگیوں کو سنواریں اور اللہ کی رضا کے مطابق زندگی گزاریں۔ اللہ ہمیں توفیق دے۔ آمین۔



📜 آیت 183-187 — آل عمران

183الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ عَهِدَ إِلَيْنَا أَلَّا نُؤْمِنَ لِرَسُولٍ حَتَّىٰ يَأْتِيَنَا بِقُرْبَانٍ تَأْكُلُهُ النَّارُ ۗ قُلْ قَدْ جَاءَكُمْ رُسُلٌ مِّن قَبْلِي بِالْبَيِّنَاتِ وَبِالَّذِي قُلْتُمْ فَلِمَ قَتَلْتُمُوهُمْ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ
جو لوگ کہتے ہی کہ خدا نے ہمیں حکم بھیجا ہے کہ جب تک کوئی پیغمبر ہمارے پاس ایسی نیاز لے کر نہ آئے جس کو آگ آکر کھا جائے تب تک ہم اس پر ایمان نہ لائیں گے (اے پیغمبر ان سے) کہہ دو کہ مجھ سے پہلے کئی پیغمبر تمہارے پاس کھلی ہوئی نشانیاں لے کر آئے اور وہ (معجزہ) بھی لائے جو تم کہتے ہو تو اگر سچے ہو تو تم نے ان کو قتل کیوں کیا؟
184فَإِن كَذَّبُوكَ فَقَدْ كُذِّبَ رُسُلٌ مِّن قَبْلِكَ جَاءُوا بِالْبَيِّنَاتِ وَالزُّبُرِ وَالْكِتَابِ الْمُنِيرِ
پھر اگر یہ لوگ تم کو سچا نہ سمجھیں تو تم سے پہلے بہت سے پیغمبر کھلی ہوئی نشانیاں اور صحیفے اور روشن کتابیں لے کر آچکے ہیں اور لوگوں نے ان کو بھی سچا نہیں سمجھا
185كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ۗ وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۖ فَمَن زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ ۗ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ
ہر متنفس کو موت کا مزا چکھنا ہے اور تم کو قیامت کے دن تمہارے اعمال کا پورا پورا بدلا دیا جائے گا۔ تو جو شخص آتش جہنم سے دور رکھا گیا اور بہشت میں داخل کیا گیا وہ مراد کو پہنچ گیا اور دنیا کی زندگی تو دھوکے کا سامان ہے
186۞ لَتُبْلَوُنَّ فِي أَمْوَالِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا ۚ وَإِن تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ ذَٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ
(اے اہل ایمان) تمہارے مال و جان میں تمہاری آزمائش کی جائے گی۔ اور تم اہل کتاب سے اور ان لوگوں سے جو مشرک ہیں بہت سی ایذا کی باتیں سنو گے۔ اور تو اگر صبر اور پرہیزگاری کرتے رہو گے تو یہ بڑی ہمت کے کام ہیں
187وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُ فَنَبَذُوهُ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ وَاشْتَرَوْا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا ۖ فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُونَ
اور جب خدا نے ان لوگوں سے جن کو کتاب عنایت کی گئی تھی اقرار کرلیا کہ (جو کچھ اس میں لکھا ہے) اسے صاف صاف بیان کرتے رہنا۔ اور اس (کی کسی بات) کو نہ چھپانا تو انہں نے اس کو پس پشت پھینک دیا اور اس کے بدلے تھوڑی سی قیمت حاصل کی۔ یہ جو کچھ حاصل کرتے ہیں برا ہے
آل عمرانقرآن فہرست
200آیت
مدنیRevelation
185آیت

ترجمہ — آل عمران 185

سورہ آل عمران آیت 185 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : ہر متنفس کو موت کا مزا چکھنا ہے اور تم…

سورہ آیت 185/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 183–187. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں