Innal lazeena yashtaroona bi`ahdil laahi wa aymaanihim samanan qaleelan ulaaa`ika laa khalaaqa lahum fil Aakhirati wa laa yukallimuhumul laahu wa laa yanzuru ilaihim Yawmal Qiyaamati wa laa yuzakkeehim wa lahum `azabun `aleem
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
جو لوگ خدا کے اقراروں اور اپنی قسموں (کو بیچ ڈالتے ہیں اور ان) کے عوض تھوڑی سی قیمت حاصل کرتے ہیں ان کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں ان سے خدا نہ تو کلام کرے گا اور نہ قیامت کے روز ان کی طرف دیکھے گا اور نہ ان کو پاک کرے گا اور ان کو دکھ دینے والا عذاب ہوگا
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
كسانى كه عهد خدا و سوگندهاى خود را به بهايى اندك مى فروشند در آخرت نصيبى ندارند و خدا در روز قيامت نه با آنان سخن مىگويد و نه به آنان مىنگرد و نه آنان را پاكيزه مىسازد. و برايشان عذابى دردآور است.
جو لوگ خدا کے اقراروں اور اپنی قسموں (کو بیچ ڈالتے ہیں اور ان) کے عوض تھوڑی سی قیمت حاصل کرتے ہیں ان کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں ان سے خدا نہ تو کلام کرے گا اور نہ قیامت کے روز ان کی طرف دیکھے گا اور نہ ان کو پاک کرے گا اور ان کو دکھ دینے والا عذاب ہوگا
📜
ترجمہ — Tafsir
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’بے شک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی سی قیمت پر بیچ دیتے ہیں، ان کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں، اور اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ تو ان سے کلام فرمائے گا، نہ ان کی طرف نظرِ رحمت سے دیکھے گا، نہ انہیں پاک کرے گا، اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔‘‘
معانی الفاظ:
يَشْتَرُونَ: بیچ دینا، عوض لینا، بدلنا۔ یہاں مراد یہ ہے کہ وہ حق کو چھوڑ کر دنیا کا فائدہ حاصل کرتے ہیں۔
بِعَهْدِ اللَّهِ: اللہ کے عہد سے، یعنی اللہ کے احکام اور اس کی وصیتوں سے جو اس نے اپنی کتابوں میں نازل فرمائیں۔
أَيْمَانِهِمْ: اپنی قسموں سے، یعنی جھوٹی قسمیں کھا کر۔
ثَمَنًا قَلِيلًا: تھوڑی سی قیمت، یعنی دنیا کا حقیر اور فانی مال۔
خَلَاقَ: حصہ، نصیب۔
يُزَكِّيهِمْ: انہیں پاک کرے، گناہوں سے صاف کرے۔
تفسیر:
یہ آیت کریمہ ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو اللہ تعالیٰ کے عہد کو توڑتے ہیں اور اپنے ایمان و دین کو دنیا کے معمولی فائدے کے بدلے بیچ دیتے ہیں۔ اس میں خاص طور پر اہل کتاب کا ذکر ہے جنہوں نے تورات میں نبی کریم ﷺ کی صفات اور ان کے آنے کی پیشگوئی کو چھپایا اور اس کے بدلے دنیا کا مال حاصل کیا، لیکن یہ حکم عام ہے اور ہر اس شخص پر لاگو ہوتا ہے جو اللہ کے عہد کو توڑے، جھوٹی قسمیں کھائے، رشوت لے، حق کو چھپائے، یا دین کو دنیا کے عوض فروخت کرے۔
ایسے لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے پانچ سخت وعیدیں بیان فرمائیں:
ان کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں — یعنی جنت کی نعمتوں اور ثواب سے وہ محروم رہیں گے۔
اللہ ان سے کلام نہیں فرمائے گا — یہ سخت ترین سزا ہے کہ جب مومنین سے اللہ محبت اور رحمت کے ساتھ گفتگو فرمائے گا، ان سے وہ بات تک نہیں کرے گا۔
اللہ ان کی طرف نہیں دیکھے گا — نظرِ رحمت سے محروم ہوں گے، حالانکہ قیامت کے دن اللہ اپنے مخلص بندوں پر نظرِ کرم فرمائے گا۔
اللہ انہیں پاک نہیں کرے گا — وہ اپنے گناہوں اور کفر کی نجاست میں ڈوبے رہیں گے، کوئی چیز انہیں پاک نہیں کر سکے گی۔
ان کے لیے دردناک عذاب ہے — جو ہر قسم کے دکھوں اور تکلیفوں پر مشتمل ہوگا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ایمان اور آخرت کو دنیا کے کسی بھی فائدے پر فروخت نہیں کرنا چاہیے۔ دنیا کی دولت، عزت، یا کوئی بھی مادی نفع — چاہے وہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو — اللہ کے عہد اور اپنے دین کے مقابلے میں بہت حقیر اور تھوڑا ہے۔ ایک مومن کو چاہیے کہ وہ سچائی پر قائم رہے، جھوٹی قسموں سے بچے، امانت میں خیانت نہ کرے، اور اللہ کے احکام کو کبھی دنیا کے عوض نہ بیچے۔ یاد رکھیں! جو شخص اللہ کے لیے کسی چیز کو چھوڑ دیتا ہے، اللہ اسے اس سے بہتر چیز عطا فرماتا ہے۔ آخرت کی کامیابی ہی اصل کامیابی ہے، اور دنیا کی محرومی عارضی ہے، لیکن آخرت کی محرومی ہمیشہ کی محرومی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا کی محبت سے بچائے اور آخرت کی کامیابی عطا فرمائے۔ آمین۔
اور اہلِ کتاب میں سے کوئی تو ایسا ہے کہ اگر تم اس کے پاس (روپوں کا) ڈھیر امانت رکھ دو تو تم کو (فوراً) واپس دے دے اور کوئی اس طرح کا ہے کہ اگر اس کے پاس ایک دینار بھی امانت رکھو تو جب تک اس کے سر پر ہر وقت کھڑے نہ رہو تمہیں دے ہی نہیں یہ اس لیے کہ وہ کہتے ہیں کہ امیوں کے بارے میں ہم سے مواخذہ نہیں ہوگا یہ خدا پر محض جھوٹ بولتے ہیں اور (اس بات کو) جانتے بھی ہیں
جو لوگ خدا کے اقراروں اور اپنی قسموں (کو بیچ ڈالتے ہیں اور ان) کے عوض تھوڑی سی قیمت حاصل کرتے ہیں ان کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں ان سے خدا نہ تو کلام کرے گا اور نہ قیامت کے روز ان کی طرف دیکھے گا اور نہ ان کو پاک کرے گا اور ان کو دکھ دینے والا عذاب ہوگا
اور ان (اہلِ کتاب) میں بعضے ایسے ہیں کہ کتاب (تورات) کو زبان مروڑ مروڑ کر پڑھتے ہیں تاکہ تم سمجھو کہ جو کچھ وہ پڑھتے ہیں کتاب میں سے ہے حالانکہ وہ کتاب میں سے نہیں ہے اور کہتے ہیں کہ وہ خدا کی طرف سے (نازل ہوا) ہے حالانکہ وہ خدا کی طرف سے نہیں ہوتا اور خدا پر جھوٹ بولتے ہیں اور (یہ بات) جانتے بھی ہیں
کسی آدمی کو شایاں نہیں کہ خدا تو اسے کتاب اور حکومت اور نبوت عطا فرمائے اور وہ لوگوں سے کہے کہ خدا کو چھوڑ کر میرے بندے ہو جاؤ بلکہ (اس کو یہ کہنا سزاوار ہے کہ اے اہلِ کتاب) تم (علمائے) ربانی ہو جاؤ کیونکہ تم کتابِ (خدا) پڑھتے پڑھاتے رہتے ہو
سورہ آیت 77/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 75–79. اردو ترجمہ: فارسی.
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔