Wa man kafara falaa yahzunka kufruh; ilainaa marji`uhum fanunabbi`uhum bimaa `amiloo; innal laaha `aleemum bizaatis sudoor
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور جو کفر کرے تو اُس کا کفر تمہیں غمناک نہ کردے ان کو ہماری طرف لوٹ کر آنا ہے پھر جو کام وہ کیا کرتے تھے ہم اُن کو جتا ئیں گے۔ بیشک خدا دلوں کی باتوں سے واقف ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
آن كس كه كافر شده است كفرش تو را غمگين نسازد. بازگشتشان نزد ماست. پس به كارهايى كه كردهاند آگاهشان مىكنيم. زيرا خدا به آنچه در دلها مىگذرد آگاه است.
اور جو کفر کرے تو اُس کا کفر تمہیں غمناک نہ کردے ان کو ہماری طرف لوٹ کر آنا ہے پھر جو کام وہ کیا کرتے تھے ہم اُن کو جتا ئیں گے۔ بیشک خدا دلوں کی باتوں سے واقف ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
فَلَا يَحْزُنكَ: آپ کو غمگین نہ کریں، رنج و ملال کا باعث نہ بنیں۔
مَرْجِعُهُمْ: ان کا لوٹنا، ان کی بازگشت۔
فَنُنَبِّئُهُم: ہم انہیں خبر دیں گے، ہم انہیں بتائیں گے۔
بِذَاتِ الصُّدُورِ: دلوں کے اندر کی بات، سینوں میں چھپی ہوئی رازوں کو۔
تفسیر:
اے محبوب رسول! جو شخص کفر اور انکار کا راستہ اختیار کرے، اس کا کفر آپ کو غمگین نہ کرے اور نہ ہی آپ اس پر افسوس کریں۔ کیونکہ آپ نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے — دعوت اور پیغام پہنچا دیا ہے۔ ہدایت دینا آپ کے اختیار میں نہیں، بلکہ یہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ان کا انجام اور انجام کار صرف اللہ کی طرف ہے۔ قیامت کے دن وہ سب کے سب ہمارے سامنے حاضر ہوں گے، اور ہم انہیں ان کے اعمال سے آگاہ کریں گے — جو برائیاں اور گناہ انہوں نے دنیا میں کیے تھے، ان سب کو ان کے سامنے رکھ دیا جائے گا۔ پھر انہیں ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہر اس چیز سے خوب واقف ہے جو دلوں میں پوشیدہ ہے — خواہ وہ کفر کا عناد ہو، شیطان کی اطاعت کا ارادہ ہو، یا کوئی اور پوشیدہ نیت۔ اس کی نگاہ سے کوئی راز پوشیدہ نہیں، اور وہ ہر عمل کا حساب لینے والا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑی تسلی اور اطمینان کا پیغام ہے۔ جب ہم حق کی دعوت دیتے ہیں اور لوگ انکار کرتے ہیں، تو ہمیں رنجیدہ نہیں ہونا چاہیے۔ ہمارا کام صرف پیغام پہنچانا ہے، ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ یہ آیت ہمیں صبر اور استقامت کا درس دیتی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے — وہ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ لہٰذا ہمیں اپنے دلوں کو پاک رکھنا چاہیے، اپنی نیتوں کو صاف رکھنا چاہیے، اور یقین رکھنا چاہیے کہ اللہ کبھی کسی کا حق نہیں مارتا۔ جو شخص کفر پر قائم رہے گا، اس کا انجام اللہ کے حوالے ہے، اور اللہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔ ہمیں اپنی اصلاح پر توجہ دینی چاہیے، اپنے دلوں کو ایمان کی روشنی سے منور کرنا چاہیے، اور اللہ کی رحمت کی امید رکھتے ہوئے نیک اعمال پر قائم رہنا چاہیے۔
اور جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) خدا نے نازل فرمائی ہے اُس کی پیروی کرو۔ تو کہتے ہیں کہ ہم تو اسی کی پیروی کریں گے جس پر اپنے باپ دادا کو پایا۔ بھلا اگرچہ شیطان ان کو دوزخ کے عذاب کی طرف بلاتا ہو (تب بھی؟)
اور جو کفر کرے تو اُس کا کفر تمہیں غمناک نہ کردے ان کو ہماری طرف لوٹ کر آنا ہے پھر جو کام وہ کیا کرتے تھے ہم اُن کو جتا ئیں گے۔ بیشک خدا دلوں کی باتوں سے واقف ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔