کہہ دو کہ میں نے تم سے کچھ صلہ مانگا ہو تو وہ تم ہی کو (مبارک رہے) ۔ میرا صلہ خدا ہی کے ذمے ہے۔ اور وہ ہر چیز سے خبردار ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
أجر: اجر، معاوضہ، بدلہ
شہید: حاضر و ناظر، ہر چیز کا مشاہدہ کرنے والا، سب کچھ جاننے والا
تفسیر:
اے نبی! آپ ان کافروں سے فرما دیجیے جو آپ پر الزام لگاتے ہیں کہ آپ پیغام رسالت کے بدلے کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں، کہ میں نے تم سے جو کچھ بھی مانگا ہو (اور حقیقت میں میں نے کچھ نہیں مانگا)، وہ تمہارا ہی ہے، یعنی میں تم سے کوئی معاوضہ یا بدلہ طلب نہیں کرتا۔ میرا اجر اور میری جزا صرف اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے، وہی مجھے بدلہ دینے والا ہے۔ اور وہ ہر چیز پر شاہد اور نگران ہے، وہ جانتا ہے کہ میں نے تم تک اللہ کا پیغام پہنچا دیا ہے، اور وہ تمہارے اعمال سے بھی خوب واقف ہے، چنانچہ وہ ہر ایک کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا۔
یہ فرمانِ الٰہی ہمیں سکھاتا ہے کہ دین کی تبلیغ اور دعوت کا مقصد کبھی دنیاوی مفاد حاصل کرنا نہیں ہوتا۔ نبی کریم ﷺ نے اپنی پوری زندگی میں یہ ثابت کیا کہ آپ نے کبھی کسی سے کوئی دنیاوی فائدہ نہیں چاہا، بلکہ آپ کا مقصد صرف اور صرف اللہ کی رضا اور امت کی ہدایت تھی۔ یہی وہ عظیم کردار ہے جو ہر داعی اور مبلغ کو اپنانا چاہیے۔ جب انسان اپنے عمل کو خالص اللہ کے لیے کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ خود اس کا محافظ اور اجر دینے والا بن جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا مشاہدہ کر رہا ہے، کوئی عمل اس سے پوشیدہ نہیں، چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا، ظاہر ہو یا پوشیدہ۔ یہ حقیقت مومن کے دل کو سکون اور اطمینان عطا کرتی ہے کہ اس کی محنت اور کوشش کبھی رائیگاں نہیں جائے گی، کیونکہ اس کا رب سب کچھ دیکھنے والا اور جاننے والا ہے۔ ہمیں بھی اپنے اعمال میں اخلاص پیدا کرنا چاہیے اور کسی سے کسی قسم کے دنیاوی بدلے کی توقع نہیں رکھنی چاہیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ بہترین اجر دینے والا ہے اور وہ ہر چیز پر گواہ ہے۔
اور جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے تکذیب کی تھی اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا تھا یہ اس کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے تو انہوں نے میرے پیغمبروں کو جھٹلایا۔ سو میرا عذاب کیسا ہوا
کہہ دو کہ میں تمہیں صرف ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ تم خدا کے لئے دو دو اور اکیلے اکیلے کھڑے ہوجاؤ پھر غور کرو۔ تمہارے رفیق کو سودا نہیں وہ تم کو عذاب سخت (کے آنے) سے پہلے صرف ڈرانے والے ہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔