یا تو اس نے خدا پر جھوٹ باندھ لیا ہے۔ یا اسے جنون ہے۔ بات یہ ہے کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ آفت اور پرلے درجے کی گمراہی میں (مبتلا) ہیں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
أَفْتَرَىٰ: جھوٹ باندھنا، بہتان تراشنا۔
جِنَّةٌ: پاگل پن، جنون۔
الضَّلَالِ الْبَعِيدِ: گمراہی جو حق سے بہت دور لے جائے۔
تفسیر:
یہ آیت ان کافروں کے اس الزام کا جواب ہے جو وہ نبی کریم ﷺ پر لگاتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ یہ شخص یا تو اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے، یا پھر اسے جنون ہے، اس لیے وہ ایسی باتیں کرتا ہے جن کی کوئی حقیقت نہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے اس الزام کو رد کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ یہ لوگ خود ہی عذاب اور گمراہی میں مبتلا ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ محمد ﷺ سچے اور صادق ہیں، انہوں نے جو کچھ پیش کیا وہ وحی الٰہی ہے، نہ کوئی افترا اور نہ جنون۔ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، وہی درحقیقت عذاب میں گرفتار ہیں اور دنیا میں بھی حق سے دور بھٹکے ہوئے ہیں۔
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ حق کے دشمن جب دلیل سے عاجز آ جاتے ہیں تو وہ بہتان اور الزام تراشی کا سہارا لیتے ہیں، لیکن اللہ کا دین ہمیشہ غالب رہتا ہے۔ ایمان والوں کو چاہیے کہ وہ اللہ کے رسول ﷺ کی سچائی پر یقین رکھیں اور آخرت کی فکر کریں، کیونکہ جو لوگ آخرت سے غافل ہیں، وہ دنیا میں بھی گمراہی میں ہیں اور آخرت میں بھی عذاب میں گرفتار ہوں گے۔ یہ آیت ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنے ایمان کو مضبوط کریں اور اللہ کے رسول ﷺ کی اتباع کریں، کیونکہ یہی نجات کا راستہ ہے۔
اور جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے وہ جانتے ہیں کہ جو (قرآن) تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے وہ حق ہے۔ اور (خدائے) غالب اور سزاوار تعریف کا رستہ بتاتا ہے
کیا انہوں نے اس کو نہیں دیکھا جو ان کے آگے اور پیچھے ہے یعنی آسمان اور زمین۔ اگر ہم چاہیں تو ان کو زمین میں دھنسا دیں یا ان پر آسمان کے ٹکڑے گرا دیں۔ اس میں ہر بندے کے لئے جو رجوع کرنے والا ہے ایک نشانی ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔