ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- یا ویلنا: ہائے ہماری تباہی! (یہ افسوس اور ندامت کا اظہار ہے)
- مرقدنا: ہماری قبریں، آرام گاہیں، نیند کی جگہیں
- بعثنا: ہمیں اٹھایا، زندہ کیا
- وعد الرحمن: رحمٰن کا وعدہ (قیامت کا دن)
- صدق المرسلون: رسولوں نے سچ کہا
تفسیر:
قیامت کے دن جب کافر اور منکرینِ بعث اپنی قبروں سے اٹھائے جائیں گے تو وہ حیرت اور ندامت کے عالم میں پکار اٹھیں گے: "ہائے ہماری تباہی! کس نے ہمیں ہماری آرام گاہوں سے جگایا؟" یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا میں بعثِ بعد الموت کا مذاق اڑاتے تھے اور کہتے تھے کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا ناممکن ہے۔
اس موقع پر انہیں جواب دیا جائے گا: "یہ وہی چیز ہے جس کا رحمٰن نے وعدہ کیا تھا اور رسولوں نے سچ کہا تھا!" یعنی یہ وہ دن ہے جس کی خبر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتب میں دی تھی اور جس کے بارے میں انبیاء علیہم السلام نے امتوں کو آگاہ کیا تھا۔ اب وہ سب کچھ سامنے آگیا جسے وہ جھٹلاتے تھے۔
بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ جواب فرشتوں کی طرف سے ہوگا، اور بعض کہتے ہیں کہ خود کافر اپنے جواب میں یہ الفاظ کہیں گے، یعنی جب وہ قبروں سے اٹھیں گے تو حقیقت ان پر واضح ہوجائے گی اور وہ خود اقرار کریں گے کہ یہ وہی وعدہ ہے جو رحمٰن نے کیا تھا اور رسولوں نے سچ کہا تھا۔ لیکن یہ اقرار اس وقت کوئی فائدہ نہیں دے گا، کیونکہ ایمان اور اقرار کا وقت گزر چکا ہوگا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے! آج ہم دنیا کی نیند میں غافل ہیں، لیکن ایک دن ضرور بیدار ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رحمٰن ہونے کا تقاضا یہ فرمایا کہ اپنے بندوں کو رسول بھیجے اور انہیں اس دن سے ڈرائے تاکہ وہ دنیا میں ہی سنبھل جائیں۔ کیا ہم اس وعدے پر یقین رکھتے ہیں؟ کیا ہم رسولوں کی صداقت کو دل سے مانتے ہیں؟ اگر ہاں، تو پھر ہمیں اس دن کے لیے تیاری کرنی چاہیے۔ یہ وہ دن ہے جب کوئی معذرت قبول نہیں ہوگی، کوئی توبہ نہیں سنی جائے گی، اور نہ ہی کوئی پلٹ کر جانے کا موقع ملے گا۔ آج ہمارے پاس موقع ہے کہ ہم قرآن پر عمل کریں، رسول اللہ ﷺ کی سنت کو اپنائیں، اور اس دن کی رسوائی سے بچیں۔ اللہ ہمیں توفیق دے۔ آمین۔
📜 آیت 50-54 — یس
ترجمہ — یس 52
سورہ آیت 52/83 — یس يس (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: یس سنیں, یس ترجمہ, یس mp3, یس pdf. آیت 50–54. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








