Wa izaa zukiral laahu wahdahush ma azzat quloobul lazeena laa yu`minoona bil Aakhirati wa izaa zukiral lazeena min dooniheee izaa hum yastabshiroon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور جب تنہا خدا کا ذکر کیا جاتا ہے تو جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل منقبض ہوجاتے ہیں۔ اور جب اس کے سوا اوروں کا ذکر کیا جاتا ہے تو خوش ہوجاتے ہیں
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
چون خدا را به يكتايى ياد كنند دلهاى آن كسان كه به قيامت ايمان نياوردهاند نفرت گيرد، و چون نام ديگرى جز او برده شود شادمان شوند.
اور جب تنہا خدا کا ذکر کیا جاتا ہے تو جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل منقبض ہوجاتے ہیں۔ اور جب اس کے سوا اوروں کا ذکر کیا جاتا ہے تو خوش ہوجاتے ہیں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
اشْمَأَزَّتْ: نفرت، کڑھی، سکڑ کر کنارے ہو گئی۔
یَسْتَبْشِرُونَ: خوش ہوتے ہیں، بشاشت کا اظہار کرتے ہیں۔
تفسیر:
جب تنہا اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے، یعنی توحید خالص کی دعوت دی جاتی ہے اور شرک سے منع کیا جاتا ہے، تو ان لوگوں کے دل جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، نفرت اور گھن سے کڑھ جاتے ہیں۔ ان کے چہرے بگڑ جاتے ہیں اور وہ اس ذکر سے بدکتے ہیں، کیونکہ توحید ان کے جاہلانہ تصورات اور باطل معبودوں کے خلاف ہے۔ لیکن جب ان کے خود ساختہ معبودوں، یعنی بتوں اور اولیاء کا ذکر آتا ہے جنہیں وہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں، تو یکایک ان کے چہرے کھل اٹھتے ہیں، دل خوشی سے جھوم اٹھتے ہیں اور وہ بشاشت کا اظہار کرنے لگتے ہیں۔
یہ آیت ان لوگوں کے نفاق اور باطل پرستی کا نقشہ کھینچتی ہے جو حق سے بیزار اور باطل سے شادمان ہوتے ہیں۔ ان کی یہ کیفیت اس بات کی دلیل ہے کہ ان کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے اور وہ ہدایت کے راستے سے بھٹک چکے ہیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ مومن کا معیار یہ ہے کہ جب اللہ کا ذکر ہو تو اس کا دل نرم ہو جائے، خشیت سے بھر جائے اور وہ توحید پر مضبوطی سے قائم رہے۔ جب کوئی شخص اللہ کے ذکر سے خوش ہوتا ہے اور شرک سے گھن کرتا ہے، تو یہ اس کے ایمان کی علامت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے دلوں کو اللہ کے ذکر کی محبت سے منور کریں اور باطل معبودوں سے بیزاری اختیار کریں، کیونکہ یہی کامیابی کا راستہ ہے۔ یاد رکھیں، اللہ کا ذکر ہی دلوں کو سکون بخشتا ہے اور آخرت کی کامیابی اسی پر موقوف ہے۔
اور جب تنہا خدا کا ذکر کیا جاتا ہے تو جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل منقبض ہوجاتے ہیں۔ اور جب اس کے سوا اوروں کا ذکر کیا جاتا ہے تو خوش ہوجاتے ہیں
کہو کہ اے خدا (اے) آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے (اور) پوشیدہ اور ظاہر کے جاننے والے تو ہی اپنے بندوں میں ان باتوں کا جن میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں فیصلہ کرے گا
اور اگر ظالموں کے پاس وہ سب (مال ومتاع) ہو جو زمین میں ہے اور اس کے ساتھ اسی قدر اور ہو تو قیامت کے روز برے عذاب (سے مخلصی پانے) کے بدلے میں دے دیں۔ اور ان پر خدا کی طرف سے وہ امر ظاہر ہوجائے گا جس کا ان کو خیال بھی نہ تھا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔