نساء · 157/176
ترجمہ تلفظ — نساء
وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَٰكِن شُبِّهَ لَهُمْ ۚ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ ۚ مَا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا ۝١٥٧
Wa qawlihim innaa qatal nal maseeha `Eesab-na-Maryama Rasoolal laahi wa maa qataloohu wa maa salaboohu wa laakin shubbiha lahum; wa innal lazeenakh talafoo fee lafee shakkim minh; maa lahum bihee min `ilmin illat tibaa`az zann; wa maa qataloohu yaqeenaa
📖 اردو ترجمہ
اور یہ کہنے کے سبب کہ ہم نے مریم کے بیٹے عیسیٰ مسیح کو جو خدا کے پیغمبر (کہلاتے) تھے قتل کردیا ہے (خدا نے ان کو معلون کردیا) اور انہوں نے عیسیٰ کو قتل نہیں کیا اور نہ انہیں سولی پر چڑھایا بلکہ ان کو ان کی سی صورت معلوم ہوئی اور جو لوگ ان کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں وہ ان کے حال سے شک میں پڑے ہوئے ہیں اور پیروئی ظن کے سوا ان کو اس کا مطلق علم نہیں۔ اور انہوں نے عیسیٰ کو یقیناً قتل نہیں کیا
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • شُبِّهَ لَهُمْ: ان پر مشتبہ کر دیا گیا، یعنی ایک اور شخص کو عیسیٰ علیہ السلام کی صورت میں ڈھال دیا گیا۔
  • اتِّبَاعَ الظَّنِّ: محض گمان اور قیاس کی پیروی۔
  • یَقِینًا: پختہ یقین اور حتمی علم کے ساتھ۔

تفسیر آیت:

اللہ تعالیٰ اس آیت میں یہود کے اس جھوٹے اور مغرورانہ دعوے کا ذکر فرما رہے ہیں، جس میں وہ فخر سے کہتے تھے: "ہم نے مسیح عیسیٰ ابن مریم کو قتل کر دیا، جو اللہ کے رسول تھے۔" وہ انہیں رسول اللہ کہہ کر بھی محض استہزاء اور مذاق کر رہے تھے، کیونکہ وہ ان کی رسالت کے منکر تھے۔

اللہ تعالیٰ نے ان کے اس دعوے کو سختی سے جھٹلاتے ہوئے فرمایا: "انہوں نے نہ عیسیٰ کو قتل کیا اور نہ ہی انہیں صلیب پر چڑھایا، بلکہ ان پر (ایک اور شخص) مشتبہ کر دیا گیا۔" یعنی اللہ نے ایک شخص کو عیسیٰ علیہ السلام کی صورت اور شبہ میں ڈھال دیا، اور یہود نے اسے پکڑ کر قتل کر دیا، جبکہ وہ دراصل عیسیٰ نہیں تھے۔ عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے آسمان کی طرف اٹھا لیا۔

پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ "جو لوگ ان کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں وہ یقیناً شک میں ہیں۔" یہ اختلاف یہود اور نصاریٰ دونوں میں پایا جاتا تھا۔ کچھ کہتے تھے کہ ہم نے انہیں قتل کیا، کچھ کہتے تھے کہ ہم نے انہیں صلیب پر چڑھایا، اور کچھ کہتے تھے کہ نہ انہوں نے قتل کیا نہ صلیب، بلکہ وہ آسمان پر اٹھا لیے گئے۔ یہ تمام گروہ محض شک اور حیرت میں مبتلا تھے، ان کے پاس کوئی علمی دلیل یا یقینی خبر نہ تھی، صرف گمان اور قیاس کی پیروی کر رہے تھے۔

آخر میں اللہ تعالیٰ تاکید کے ساتھ فرماتے ہیں: "اور انہوں نے انہیں یقینی طور پر قتل نہیں کیا۔" یعنی ان کا قتل بالکل ثابت نہیں، بلکہ یہ محض ان کا وہم اور گمان تھا۔

دعوتی پہلو:

یہ آیت ہمیں ایک عظیم سبق سکھاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی حفاظت خود فرماتا ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ نے دشمنوں کے مکر سے بچایا اور انہیں اپنی طرف اٹھا لیا۔ یہ اللہ کی قدرت کا ایک عظیم مظاہرہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ پر مکمل بھروسہ رکھیں، کیونکہ وہی سب کچھ کرنے پر قادر ہے۔ نیز یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ محض قیاس اور گمان پر مبنی عقائد کبھی سچائی تک نہیں پہنچا سکتے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دین کے معاملات میں صرف قرآن و سنت کی روشنی میں چلیں، جو یقینی علم فراہم کرتے ہیں، اور شک و شبہات سے بچیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں اللہ کی رضا اور جنت تک پہنچائے گا۔ اللہ ہمیں سچائی پر ثابت قدم رکھے اور گمراہی سے محفوظ فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 155-159 — نساء

155فَبِمَا نَقْضِهِم مِّيثَاقَهُمْ وَكُفْرِهِم بِآيَاتِ اللَّهِ وَقَتْلِهِمُ الْأَنبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَقَوْلِهِمْ قُلُوبُنَا غُلْفٌ ۚ بَلْ طَبَعَ اللَّهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُونَ إِلَّا قَلِيلًا
(لیکن انہوں نے عہد کو توڑ ڈالا) تو ان کے عہد توڑ دینے اور خدا کی آیتوں سے کفر کرنے اور انبیاء کو ناحق مار ڈالنے اور یہ کہنے کے سبب کہ ہمارے دلوں پر پردے (پڑے ہوئے) ہیں۔ (خدا نے ان کو مردود کردیا اور ان کے دلوں پر پردے نہیں ہیں) بلکہ ان کے کفر کے سبب خدا نے ان پر مہر کردی ہے تو یہ کم ہی ایمان لاتے ہیں
156وَبِكُفْرِهِمْ وَقَوْلِهِمْ عَلَىٰ مَرْيَمَ بُهْتَانًا عَظِيمًا
اور ان کے کفر کے سبب اور مریم پر ایک بہتان عظیم باندھنے کے سبب
157وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَٰكِن شُبِّهَ لَهُمْ ۚ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ ۚ مَا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا
اور یہ کہنے کے سبب کہ ہم نے مریم کے بیٹے عیسیٰ مسیح کو جو خدا کے پیغمبر (کہلاتے) تھے قتل کردیا ہے (خدا نے ان کو معلون کردیا) اور انہوں نے عیسیٰ کو قتل نہیں کیا اور نہ انہیں سولی پر چڑھایا بلکہ ان کو ان کی سی صورت معلوم ہوئی اور جو لوگ ان کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں وہ ان کے حال سے شک میں پڑے ہوئے ہیں اور پیروئی ظن کے سوا ان کو اس کا مطلق علم نہیں۔ اور انہوں نے عیسیٰ کو یقیناً قتل نہیں کیا
158بَل رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا
بلکہ خدا نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ اور خدا غالب اور حکمت والا ہے
159وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ ۖ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا
اور کوئی اہل کتاب نہیں ہوگا مگر ان کی موت سے پہلے ان پر ایمان لے آئے گا۔ اور وہ قیامت کے دن ان پر گواہ ہوں گے
نساءقرآن فہرست
176آیت
مدنیRevelation
157آیت

ترجمہ — نساء 157

سورہ نساء آیت 157 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور یہ کہنے کے سبب کہ ہم نے مریم کے…

سورہ آیت 157/176 — نساء النساء (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نساء سنیں, نساء ترجمہ, نساء mp3, نساء pdf. آیت 155–159. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں