ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- رَفَعَهُ: اسے اٹھا لیا، بلندی پر لے گیا۔
- عَزِیزًا: غالب، زبردست، جسے کوئی مغلوب نہ کر سکے۔
- حَکِیمًا: حکمت والا، جو ہر کام مصلحت اور دانائی سے کرے۔
تفسیر:
یہ آیت کریمہ ان یہودیوں کے جھوٹے دعوے کا رد کر رہی ہے جو کہتے تھے کہ ہم نے مسیح عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کر دیا اور صلیب پر چڑھا دیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ نہ تو انہوں نے عیسیٰ کو قتل کیا اور نہ ہی انہیں صلیب پر چڑھایا، بلکہ اللہ نے اپنے اس برگزیدہ نبی کو ان کے مکر و فریب سے بچاتے ہوئے جسم اور روح کے ساتھ زندہ اپنی طرف اٹھا لیا۔ یہ رفع اللہ کی قدرت کا ایک عظیم معجزہ تھا، جس سے اللہ نے اپنے نبی کی عزت اور حفاظت فرمائی۔
اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا تاکہ وہ کافروں کی سازشوں اور ان کی پلیدی سے پاک و صاف رہیں۔ یہ اللہ کی سنت ہے کہ وہ اپنے نیک بندوں کی حفاظت فرماتا ہے اور انہیں دشمنوں کے شر سے محفوظ رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے مَلکوت میں کامل اقتدار رکھتا ہے، کوئی اس کی مرضی کے خلاف نہیں چل سکتا، اور وہ اپنے ہر فیصلے میں حکمت و مصلحت سے کام لیتا ہے۔
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی حفاظت خود کرتا ہے، چاہے دشمن کتنے ہی طاقتور اور چالاک کیوں نہ ہوں۔ جو شخص اللہ پر بھروسہ کرتا ہے، اللہ اسے ہر مصیبت سے نجات دیتا ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کی یہ عزت و بلندی اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ اپنے رسولوں کی کتنی قدر کرتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم بھی اللہ پر مکمل بھروسہ رکھیں اور یقین کریں کہ اللہ ہر مشکل میں ہمارا مددگار ہے۔ یہ آیت ہمیں اللہ کی قدرت اور حکمت پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے، اور ساتھ ہی یہ اطمینان دلاتی ہے کہ حق کی حمایت اللہ خود کرتا ہے، چاہے دنیا کی طاقتیں کتنی ہی مخالف کیوں نہ ہوں۔
📜 آیت 156-160 — نساء
ترجمہ — نساء 158
سورہ نساء آیت 158 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : بلکہ خدا نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ اور…سورہ آیت 158/176 — نساء النساء (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نساء سنیں, نساء ترجمہ, نساء mp3, نساء pdf. آیت 156–160. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








