Laqad akhaznaa meesaaqa Banee Israaa`eela wa arsalnaaa ilaihim Rusulan kullamaa jaaa`ahum Rasoolum bimaa laa tahwaaa anfusuhum fareeqan kazzaboo wa fareeqany yaqtuloon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
ہم نے بنی اسرائیل سے عہد بھی لیا اور ان کی طرف پیغمبر بھی بھیجے (لیکن) جب کوئی پیغمبر ان کے پاس ایسی باتیں لےکر آتا جن کو ان کے دل نہیں چاہتے تھے تو وہ (انبیاء کی) ایک جماعت کو تو جھٹلا دیتے اور ایک جماعت کو قتل کر دیتے تھے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
ما از بنى اسرائيل پيمان گرفتيم و پيامبرانى برايشان فرستاديم. هرگاه كه پيامبرى چيزى مىگفت كه با خواهش دلشان موافق نبود، گروهى را تكذيب مىكردند و گروهى را مىكشتند.
ہم نے بنی اسرائیل سے عہد بھی لیا اور ان کی طرف پیغمبر بھی بھیجے (لیکن) جب کوئی پیغمبر ان کے پاس ایسی باتیں لےکر آتا جن کو ان کے دل نہیں چاہتے تھے تو وہ (انبیاء کی) ایک جماعت کو تو جھٹلا دیتے اور ایک جماعت کو قتل کر دیتے تھے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
مِيثَاقَ: مضبوط عہد و پیمان۔
لَا تَهْوَىٰ أَنفُسُهُمْ: جو ان کی خواہشات کے مطابق نہ ہو، جسے ان کے دل نہ چاہیں۔
فَرِيقًا: ایک گروہ۔
يَقْتُلُونَ: قتل کرتے ہیں۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم ﷺ کو بنی اسرائیل کا وہ عبرتناک حال سناتا ہے کہ ہم نے ان سے مضبوط عہد لیا تھا کہ وہ ہماری عبادت کریں گے، ہمارے احکام سنیں گے اور اطاعت کریں گے، اور ہم نے ان کی ہدایت کے لیے اپنے بہت سے رسول بھیجے۔ لیکن افسوس! انہوں نے اس عہد کو توڑ دیا اور اپنی خواہشات کو اپنا معبود بنا لیا۔ جب بھی کوئی رسول ان کے پاس اللہ کا پیغام لے کر آیا جو ان کی نفسانی خواہشات کے خلاف تھا، انہوں نے اس کی مخالفت کی اور اسے رد کر دیا۔ کسی رسول کو جھٹلایا اور کسی کو شہید کر دیا۔ یہ ان کی بدترین روش تھی کہ وہ حق کو قبول کرنے کے بجائے اپنی ہٹ دھرمی پر اڑے رہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ انسان کی سب سے بڑی کمزوری اپنی خواہشات کو حق پر مقدم کرنا ہے۔ جو لوگ اپنے نفس کی پیروی کرتے ہیں، وہ کبھی ہدایت نہیں پا سکتے، چاہے ان کے پاس کتنے ہی روشن دلائل آ جائیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دلوں کو حق کے لیے کھلا رکھیں، اور جب بھی قرآن و سنت کی کوئی بات ہمارے مزاج کے خلاف ہو، تو ہم اپنی خواہشات کو بدلیں، نہ کہ حق کو۔ یہی وہ راستہ ہے جو کامیابی کی طرف لے جاتا ہے، اور یہی وہ روش ہے جس نے بنی اسرائیل کو رسوائی میں ڈالا کہ انہوں نے حق کو اپنی خواہشات کے تابع کر دیا۔ آئیے ہم اس سے عبرت حاصل کریں اور اپنے ایمان کو خواہشات پر غالب رکھیں، تاکہ ہم اللہ کی رحمت اور اس کے فضل کے مستحق بن سکیں۔
کہو کہ اے اہل کتاب! جب تک تم تورات اور انجیل کو اور جو (اور کتابیں) تمہارے پروردگار کی طرف سے تم لوگوں پر نازل ہوئیں ان کو قائم نہ رکھو گے کچھ بھی راہ پر نہیں ہو سکتے اور یہ (قرآن) جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے ان میں سے اکثر کی سرکشی اور کفر اور بڑھے گا تو تم قوم کفار پر افسوس نہ کرو
جو لوگ خدا پر اور روز آخرت پر ایمان لائیں گے اور عمل نیک کریں گے خواہ وہ مسلمان ہوں یا یہودی یا ستارہ پرست یا عیسائی ان کو (قیامت کے دن) نہ کچھ خوف ہو گا اور نہ غمناک ہوں گے
ہم نے بنی اسرائیل سے عہد بھی لیا اور ان کی طرف پیغمبر بھی بھیجے (لیکن) جب کوئی پیغمبر ان کے پاس ایسی باتیں لےکر آتا جن کو ان کے دل نہیں چاہتے تھے تو وہ (انبیاء کی) ایک جماعت کو تو جھٹلا دیتے اور ایک جماعت کو قتل کر دیتے تھے
اور خیال کرتے تھے کہ (اس سے ان پر) کوئی آفت نہیں آنے کی تو وہ اندھے اور بہرے ہو گئے پھر خدا نے ان پر مہربانی فرمائی (لیکن) پھر ان میں سے بہت سے اندھے اور بہرے ہو گئے اور خدا ان کے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے
وہ لوگ بےشبہ کافر ہیں جو کہتے ہیں کہ مریم کے بیٹے (عیسیٰ) مسیح خدا ہیں حالانکہ مسیح یہود سے یہ کہا کرتے تھے کہ اے بنی اسرائیل خدا ہی کی عبادت کرو جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی (اور جان رکھو کہ) جو شخص خدا کے ساتھ شرک کرے گا خدا اس پر بہشت حرام کر دے گا اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔