ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- صَرَّةٍ: بلند آواز چیخنا یا چلانا، خوشی کی شدت سے آواز نکالنا۔
- صَکَّت: ہاتھ مارا، طمانچہ مارا۔
- عَقِیم: بانجھ، جس کی اولاد نہ ہو۔
تفسیر:
جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس فرشتے مہمان بن کر آئے اور انہوں نے بیٹے اسحاق اور اس کے بعد یعقوب علیہ السلام کی بشارت دی، تو یہ سن کر حضرت ابراہیم کی اہلیہ سارہ رضی اللہ عنہا، جو پردے میں تھیں، خوشی اور حیرت کے ملے جلے جذبات میں بے اختیار ہو کر باہر آئیں۔ ان کی آواز خوشی کے جوش سے بلند ہو رہی تھی، جیسے عورتیں کسی غیر معمولی خوشی کے موقع پر چیخ اٹھتی ہیں۔ انہوں نے حیرت اور تعجب کے عالم میں اپنے چہرے پر ہاتھ مارا، جو عورتوں کا فطری انداز ہے جب وہ کسی ناقابلِ یقین بات پر حیران ہو جائیں۔ پھر انہوں نے کہا: "میں بوڑھی عورت ہوں اور بانجھ بھی، میرے ہاں بچہ کیسے ہو سکتا ہے؟"
یہ تعجب محض انسانی فطرت کا تقاضا تھا، ورنہ وہ اللہ کی قدرت پر ایمان رکھتی تھیں۔ اللہ تعالیٰ کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں، وہ بوڑھی اور بانجھ عورت کو بھی اولاد عطا کر سکتا ہے۔ اس واقعے میں ہمارے لیے بڑا سبق ہے کہ اللہ کی رحمت اور قدرت سے کبھی مایوس نہ ہوں، چاہے حالات کتنے ہی ناموافق کیوں نہ ہوں۔ اللہ جب چاہتا ہے، قدرت کا ایسا جلوہ دکھاتا ہے جو عقل کو حیران کر دیتا ہے۔ یہ بشارت دراصل اللہ کی رحمت کا نمونہ تھی کہ اس نے اپنے خلیل کو بڑھاپے میں اولاد عطا کی، تاکہ امت کو یہ سکھائے کہ اللہ کی مشیت کے آگے تمام اسباب بے معنی ہیں۔ جب اللہ کسی بندے کو عزت دینا چاہتا ہے، تو وہ اس کے لیے ایسے راستے کھولتا ہے جن کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ہمیں چاہیے کہ ہر معاملے میں اللہ پر بھروسہ رکھیں اور اس کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہوں، کیونکہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
📜 آیت 27-31 — ذاریات
ترجمہ — ذاریات 29
سورہ ذاریات آیت 29 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تو ابراہیمؑ کی بیوی چلاّتی آئی اور اپنا منہ پیٹ…سورہ آیت 29/60 — ذاریات الذاريات (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: ذاریات سنیں, ذاریات ترجمہ, ذاریات mp3, ذاریات pdf. آیت 27–31. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








