ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- تَطْغَوْا: حد سے تجاوز کرنا، ظلم کرنا، زیادتی کرنا۔
- الْمِیزَان: ترازو، وزن کرنے کا پیمانہ، عدل اور انصاف کی علامت۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ نے آسمان کو بلند کیا اور زمین پر میزان (عدل و انصاف) قائم فرمائی، اور یہ حکم دیا کہ تم لوگ میزان میں زیادتی نہ کرو۔ یعنی جب تم کسی کو تول کر دو، تو اس میں کمی نہ کرو، اور جب کسی سے تول کر لو، تو اس میں زیادتی نہ کرو۔ یہ حکم صرف تجارتی لین دین تک محدود نہیں، بلکہ ہر معاملے میں عدل و انصاف قائم رکھنے کی تلقین ہے۔
اس آیت کا مقصد یہ ہے کہ انسان اپنے تمام معاملات میں انصاف کو ملحوظ رکھے، چاہے وہ ناپ تول ہو، گفتگو ہو، فیصلہ ہو یا کوئی اور معاملہ۔ اللہ تعالیٰ نے میزان کو اس لیے قائم کیا تاکہ لوگوں کے درمیان حق و انصاف قائم رہے اور کوئی کسی پر ظلم نہ کر سکے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو ہمیں ہر معاملے میں عدل و انصاف کا حکم دیتا ہے۔ جب ہم اپنے کاروبار، معاشرتی تعلقات اور روزمرہ معاملات میں انصاف کریں گے، تو معاشرہ پرامن اور خوشحال ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ اعزاز بخشا ہے کہ ہم امت مسلمہ ہیں، اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اخلاق و معاملات میں بھی اس اعزاز کے مطابق زندگی گزاریں۔ یاد رکھیں، جو شخص عدل کرتا ہے، اللہ اس سے محبت کرتا ہے اور اسے دنیا و آخرت میں کامیابی عطا فرماتا ہے۔
📜 آیت 6-10 — رحمن
ترجمہ — رحمن 8
سورہ رحمن آیت 8 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : کہ ترازو (سے تولنے) میں حد سے تجاوز نہ کروسورہ آیت 8/78 — رحمن الرحمن (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: رحمن سنیں, رحمن ترجمہ, رحمن mp3, رحمن pdf. آیت 6–10. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








