اور اگر یوں لوگ تمہاری تکذیب کریں تو کہہ دو تمہارا پروردگار صاحب رحمت وسیع ہے مگر اس کا عذاب گنہ گاروں لوگوں سے نہیں ٹلے گا
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
بَأْسُهُ: اس کا عذاب اور سزا۔
الْمُجْرِمِينَ: وہ لوگ جو گناہوں میں مبتلا ہوں اور جرائم کا ارتکاب کریں۔
تفسیر:
اے محبوب رسول! اگر آپ کے مخالفین، خواہ وہ مشرکین ہوں، یہودی ہوں یا کوئی اور، آپ کو جھٹلائیں اور آپ کے لائے ہوئے پیغامِ حق کی تصدیق نہ کریں، تو آپ انہیں نرمی اور محبت کے ساتھ یاد دلائیں کہ میرا رب رحمت والا ہے، اس کی رحمت بہت وسیع ہے۔ وہ تم پر عذاب جلدی نازل نہیں کرتا، بلکہ تمہیں مہلت دیتا ہے تاکہ تم اپنے حال پر غور کرو اور راہِ راست اختیار کرو۔ یہ اس کی رحمت ہی ہے کہ وہ تمہیں فوراً پکڑ نہیں لیتا، ورنہ تمہارا کوئی پرسانِ حال نہ ہوتا۔
مگر اس کے ساتھ ہی انہیں ڈرائیں اور متنبہ کریں کہ جب اللہ کا عذاب آ جائے گا، تو اسے کوئی ٹال نہیں سکے گا، اور یہ عذاب انہیں لوگوں پر آ کر رہے گا جو جرائم اور گناہوں میں ڈوبے ہوئے ہوں۔ پس تم اپنی روش پر قائم رہو، کیونکہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا چاہیے، لیکن اس کے عذاب سے بے خوف بھی نہیں ہونا چاہیے۔
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ دین کی دعوت میں نرمی اور رحمت کا پہلو ہمیشہ مقدم رکھنا چاہیے، لیکن ساتھ ہی اللہ کی پکڑ کا خوف بھی دلوں میں پیدا کرنا ضروری ہے۔ کیونکہ اللہ کی رحمت وسیع ہے، مگر اس کا عذاب بھی نہایت سخت ہے، اور یہ عذاب صرف انہیں لوگوں کو پکڑتا ہے جو اپنے جرائم پر اصرار کریں اور توبہ نہ کریں۔
اے بندو! اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، کیونکہ وہ توبہ کرنے والوں کو قبول کرتا ہے اور گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔ لیکن یاد رکھو، اس کی پکڑ سے بھی بچو، کیونکہ جب وہ کسی قوم کو پکڑتا ہے تو کوئی اسے نہیں روک سکتا۔ پس اپنے رب کی رحمت کے طلب گار بنو اور اس کے عذاب سے ڈرتے رہو، یہی کامیابی کا راستہ ہے۔
کہو کہ جو احکام مجھ پر نازل ہوئے ہیں ان میں کوئی چیز جسے کھانے والا کھائے حرام نہیں پاتا بجز اس کے کہ وہ مرا ہوا جانور یا بہتا لہو یا سور کا گوشت کہ یہ سب ناپاک ہیں یا کوئی گناہ کی چیز ہو کہ اس پر خدا کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو اور اگر کوئی مجبور ہو جائے لیکن نہ تو نافرمانی کرے اور نہ حد سے باہر نکل جائے تو تمہارا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے
اور یہودیوں پر ہم نے سب ناخن والے جانور حرام کر دئیے تھے اور گایوں اور بکریوں سے ان کی چربی حرام کر دی تھی سوا اس کے جو ان کی پیٹھ پر لگی ہو یا اوجھڑی میں ہو یا ہڈی میں ملی ہو یہ سزا ہم نے ان کو ان کی شرارت کے سبب دی تھی اور ہم تو سچ کہنے والے ہیں
جو لوگ شرک کرتے ہیں وہ کہیں گے کہ اگر خدا چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا (شرک کرتے) اور نہ ہم کسی چیز کو حرام ٹھہراتے اسی طرح ان لوگوں نے تکذیب کی تھی جو ان سے پہلے تھے یہاں تک کہ ہمارے عذاب کا مزہ چکھ کر رہے کہہ دو کیا تمہارے پاس کوئی سند ہے (اگر ہے) تو اسے ہمارے سامنے نکالو تم محض خیال کے پیچھے چلتے اور اٹکل کی تیر چلاتے ہو
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔