ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- بَغْتَةً: اچانک، بغیر کسی پیشگی اطلاع کے۔
- جَهْرَةً: علانیہ، کھلم کھلا، آنکھوں سے دیکھتے ہوئے۔
تفسیر:
اے نبی! آپ ان مشرکین سے فرمائیں کہ ذرا غور کرو اور مجھے بتاؤ کہ اگر اللہ کا عذاب تم پر اچانک آجائے، جب تمہیں اس کا کوئی احساس بھی نہ ہو، یا پھر علانیہ تمہارے سامنے آجائے اور تم اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو، تو کیا اس عذاب میں گرفتار ہو کر ہلاک ہونے والے صرف ظالم لوگ ہی نہیں ہوں گے؟
یہ ایک ایسا سوال ہے جو ہر اس شخص کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیتا ہے جو عقل سے کام لیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا عذاب کبھی بھی آسکتا ہے، چاہے وہ اچانک ہو یا ظاہری طور پر، لیکن اس کا نشانہ صرف وہی لوگ بنتے ہیں جو ظلم کریں، یعنی اللہ کے ساتھ شرک کریں، اس کی عبادت کو غیروں کے لیے مخصوص کریں، اور اس کے رسولوں کو جھٹلائیں۔
اس آیت میں اللہ رب العزت اپنے بندوں کو غور و فکر کی دعوت دے رہے ہیں۔ یہ دراصل ایک شفیق باپ کی مانند تنبیہ ہے جو اپنے بچوں کو خطرے سے آگاہ کرے۔ اللہ تعالیٰ عذاب میں جلدی نہیں کرتا، وہ مہلت دیتا ہے، توبہ کا دروازہ کھلا رکھتا ہے، لیکن جب عذاب آتا ہے تو صرف ظالم ہی اس کی زد میں آتے ہیں۔
یہ آیت ہر مسلمان کے لیے ایک بیداری کا پیغام ہے کہ وہ اپنے ایمان کا جائزہ لے، شرک اور ظلم سے بچے، اور اللہ کی رحمت کو پانے کے لیے جلدی کرے۔ اللہ تعالیٰ رحیم و کریم ہے، وہ توبہ کرنے والوں کو قبول کرتا ہے اور اپنی رحمت سے نوازتا ہے۔ آئیے ہم سب اس آیت پر غور کریں اور اپنی زندگیوں کو ظلم سے پاک کریں تاکہ اللہ کا عذاب ہم سے دور رہے اور ہم اس کی رحمت کے مستحق بنیں۔
📜 آیت 45-49 — انعام
ترجمہ — انعام 47
سورہ انعام آیت 47 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : کہو کہ بھلا بتاؤ تو اگر تم پر خدا کا…سورہ آیت 47/165 — انعام الأنعام (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انعام سنیں, انعام ترجمہ, انعام mp3, انعام pdf. آیت 45–49. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








