ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- آیت: معجزہ، نشانی، دلیل
- صادقین: سچے لوگ
تفسیر:
فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعوتِ توحید سن کر تکبر اور استہزاء کے انداز میں کہا: "اگر تم واقعی کوئی معجزہ لائے ہو، جیسا کہ تم دعویٰ کرتے ہو کہ تم رب العالمین کے رسول ہو، تو اسے ہمارے سامنے پیش کرو۔ اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو تو اپنی صداقت کا ثبوت دو۔"
یہ فرعون کا وہی پرانا طرزِ عمل تھا جو ہر حق کو جھٹلانے والا اختیار کرتا ہے۔ وہ حق کو ماننے کے بجائے حیلے بہانے تلاش کرتا ہے۔ لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ فرعون نے یہ شرط رکھی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فوراً اپنا عصا پھینکا اور وہ ایک عظیم اژدہا بن گیا، اور اپنا ہاتھ باہر نکالا تو وہ دیکھنے والوں کے لیے چمکتا ہوا سفید روشن تھا۔ یہ اللہ تعالیٰ کے وہ معجزات تھے جو کسی بھی جادوگر کے بس سے باہر تھے۔
اس آیت سے ہمیں ایک اہم سبق ملتا ہے کہ حق کے داعی کو چاہیے کہ وہ اپنی دعوت کے ساتھ دلائل اور نشانیاں پیش کرے، اور اللہ پر بھروسہ رکھے۔ جب انسان سچے دل سے اللہ کی طرف دعوت دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی تائید کے لیے اپنے معجزات اور نشانیاں ظاہر فرماتا ہے۔ فرعون جیسے متکبر لوگ چاہے جتنے بھی شرطیں رکھیں، اللہ کا حق ہمیشہ غالب آنے والا ہے۔
یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ حق کو پیش کرنے میں کوئی خوف نہیں ہونا چاہیے، چاہے سامنے فرعون جیسی طاقت ہی کیوں نہ ہو۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بلا جھجک فرعون کے سامنے اللہ کے معجزات پیش کیے، اور یہی راستہ ہر مومن کا ہے۔ آج بھی جو لوگ سچائی پر قائم ہیں، اللہ ان کی مدد فرماتا ہے اور انہیں کامیابی عطا کرتا ہے۔
📜 آیت 104-108 — اعراف
ترجمہ — اعراف 106
سورہ اعراف آیت 106 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : فرعون نے کہا اگر تم نشانی لے کر آئے ہو…سورہ آیت 106/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 104–108. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








