اعراف · 13/206
ترجمہ تلفظ — اعراف
قَالَ فَاهْبِطْ مِنْهَا فَمَا يَكُونُ لَكَ أَن تَتَكَبَّرَ فِيهَا فَاخْرُجْ إِنَّكَ مِنَ الصَّاغِرِينَ ۝١٣
Qaala fahbit minhaa famaa yakoonu laka an tatakabbara feehaa fakhruj innaka minas saaghireen
📖 اردو ترجمہ
فرمایا تو (بہشت سے) اتر جا تجھے شایاں نہیں کہ یہاں غرور کرے پس نکل جا۔ تو ذلیل ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • فَاهْبِطْ: نیچے اتر جا، اتر کر چلا جا۔
  • فَمَا يَكُونُ لَكَ: تیرے لئے زیبا نہیں، تیرے لائق نہیں۔
  • تَتَكَبَّرَ: بڑائی کرنا، تکبر کرنا۔
  • الصَّاغِرِينَ: ذلیل و خوار، حقیر اور بے وقعت لوگ۔

تفسیر:

جب ابلیس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی کی اور آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے انکار کر دیا، اور اپنے تکبر کی وجہ سے اپنے آپ کو آدم سے بہتر سمجھا، تو اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا: "تو جنت سے اتر جا، کیونکہ یہ جگہ صرف اطاعت گزاروں اور پاکیزہ لوگوں کے لئے ہے۔ تیرے لئے یہ زیبا نہیں کہ تو اس میں رہ کر تکبر کرے اور میرے حکم کی مخالفت کرے۔ جنت تو ان لوگوں کا گھر ہے جو عاجزی اور فروتنی اختیار کرتے ہیں، نہ کہ ان کا جو اپنے رب کے سامنے سرکشی اور غرور کریں۔ پس تو یہاں سے نکل جا، کیونکہ تو ان لوگوں میں سے ہے جو ذلیل اور خوار ہیں، چاہے تو اپنے آپ کو کتنا ہی بڑا اور اشرف کیوں نہ سمجھتا ہو۔"

یہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ تھا کہ ابلیس کو جنت سے نکال دیا گیا اور اس پر لعنت اور ذلت مقرر کر دی گئی، کیونکہ اس نے اپنے رب کے سامنے تکبر کیا اور اس کی نافرمانی کی۔

دعوتی پہلو:

اس واقعہ میں ہمارے لئے بہت بڑا سبق ہے کہ تکبر اور غرور انسان کو کس قدر ذلیل کر سکتا ہے۔ ابلیس نے ہزاروں سال عبادت کی تھی، لیکن ایک لمحے کے تکبر نے اس کی تمام عبادتوں کو خاک میں ملا دیا۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے رب کے سامنے عاجزی اور فروتنی اختیار کریں، کیونکہ اللہ تعالیٰ متکبروں کو پسند نہیں فرماتا۔ جنت انہی لوگوں کے لئے ہے جو اپنے رب کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دیں، چاہے وہ حکم ان کی سمجھ میں نہ بھی آئے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے اندر سے تکبر اور غرور کو نکالیں اور اپنے رب کی اطاعت میں جنت کے مستحق بنیں۔

🎧 سنیں

📜 آیت 11-15 — اعراف

11وَلَقَدْ خَلَقْنَاكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنَاكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ لَمْ يَكُن مِّنَ السَّاجِدِينَ
اور ہم ہی نے تم کو (ابتدا میں مٹی سے) پیدا کیا پھر تمہاری صورت شکل بنائی پھر فرشتوں کو حکم دیا آدم کے آگے سجدہ کرو تو (سب نے) سجدہ کیا لیکن ابلیس کہ وہ سجدہ کرنے والوں میں (شامل) نہ ہوا
12قَالَ مَا مَنَعَكَ أَلَّا تَسْجُدَ إِذْ أَمَرْتُكَ ۖ قَالَ أَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِن طِينٍ
(خدا نے) فرمایا جب میں نے تجھ کو حکم دیا تو کس چیز نے تجھے سجدہ کرنے سے باز رکھا۔ اس نے کہا کہ میں اس سے افضل ہوں۔ مجھے تو نے آگ سے پیدا کیا ہے اور اسے مٹی سے بنایا ہے
13قَالَ فَاهْبِطْ مِنْهَا فَمَا يَكُونُ لَكَ أَن تَتَكَبَّرَ فِيهَا فَاخْرُجْ إِنَّكَ مِنَ الصَّاغِرِينَ
فرمایا تو (بہشت سے) اتر جا تجھے شایاں نہیں کہ یہاں غرور کرے پس نکل جا۔ تو ذلیل ہے
14قَالَ أَنظِرْنِي إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ
اس نے کہا کہ مجھے اس دن تک مہلت عطا فرما جس دن لوگ (قبروں سے) اٹھائے جائیں گے
15قَالَ إِنَّكَ مِنَ الْمُنظَرِينَ
فرمایا (اچھا) تجھ کو مہلت دی جاتی ہے
اعرافقرآن فہرست
206آیت
مکیRevelation
13آیت

ترجمہ — اعراف 13

سورہ اعراف آیت 13 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : فرمایا تو (بہشت سے) اتر جا تجھے شایاں نہیں کہ…

سورہ آیت 13/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 11–15. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں