ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- أَنظِرْنِي: مجھے مہلت دے، میری موت کو مؤخر کر دے۔
- يُبْعَثُونَ: وہ (لوگ) اٹھائے جائیں گے، یعنی قبروں سے زندہ کر کے اٹھائے جانے کا دن۔
تفسیر:
جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کا حکم دیا اور ابلیس نے تکبر کرتے ہوئے انکار کر دیا، اور اللہ کی رحمت سے مایوس ہو کر اس پر لعنت کا فیصلہ سنایا گیا، تو اس وقت ابلیس نے ایک اور درخواست پیش کی۔ اس نے کہا: "اے میرے رب! مجھے اس دن تک مہلت دے، جب تک لوگ قبروں سے نہ اٹھائے جائیں۔" اس کا مقصد یہ تھا کہ وہ اس مہلت کو استعمال کرتے ہوئے بنی آدم کو گمراہ کرنے کی پوری کوشش کرے اور انہیں راہِ راست سے بھٹکائے۔
یہ درخواست دراصل ابلیس کی سرکشی اور عداوتِ بنی آدم کا اظہار تھی۔ وہ یہ چاہتا تھا کہ جب تک انسان زندہ رہے، وہ اسے گمراہ کرنے کی کوشش کرتا رہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے مہلت دی، لیکن اس شرط کے ساتھ کہ یہ مہلت صرف ایک مقررہ وقت تک ہے، یعنی قیامت کے قریب پہلی صور پھونکے جانے تک، جب سب مخلوقات موت کا مزہ چکھیں گی۔ اس طرح ابلیس کی یہ خواہش پوری نہ ہوئی کہ وہ ہمیشہ زندہ رہے، بلکہ اسے صرف ایک محدود مدت تک کی مہلت ملی۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ سب سے پہلا سبق یہ ہے کہ ابلیس ہمارا کھلا دشمن ہے، جس نے اللہ سے یہ مہلت صرف اس لیے مانگی تھی کہ وہ ہمیں گمراہ کرے۔ اس لیے ہمیں ہمیشہ اس کے وسوسوں سے بچنا چاہیے اور اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے۔ دوسرا سبق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس دشمن سے بچنے کا راستہ بھی بتایا ہے، یعنی قرآن و سنت کی پیروی، تقویٰ اور صبر۔ تیسرا سبق یہ ہے کہ یہ دنیا امتحان کی جگہ ہے، اور ہر انسان کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ اس مختصر سی زندگی کو غنیمت جانیں، نیک اعمال کریں، اور اللہ کی رحمت کے طالب رہیں، تاکہ قیامت کے دن ہم کامیاب ہوں۔ یاد رکھیں، ابلیس کی مہلت ختم ہونے والی ہے، لیکن اللہ کی رحمت ہمیشہ قائم ہے، اور جو شخص اللہ کی طرف رجوع کرے، وہ کبھی ناکام نہیں ہوتا۔
📜 آیت 12-16 — اعراف
ترجمہ — اعراف 14
سورہ آیت 14/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 12–16. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








