ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- أُبَلِّغُكُمْ: میں تم تک پہنچاتا ہوں۔
- رِسَالَاتِ رَبِّي: میرے رب کے پیغامات۔
- أَنصَحُ لَكُمْ: میں تمہارے لیے خیرخواہی کرتا ہوں۔
- أَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ: میں اللہ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں۔
تفسیر:
حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو مخاطب کرتے ہوئے جو کلمات ارشاد فرمائے، ان میں ان کی دعوت کا خلاصہ اور ان کے اخلاقِ عالیہ کی جھلک نمایاں ہے۔ وہ فرما رہے ہیں: "میں تم تک اپنے رب کے پیغامات پہنچاتا ہوں" یعنی میرا کام صرف یہ ہے کہ جو احکام اور ہدایات اللہ تعالیٰ نے مجھ پر وحی کے ذریعے نازل کی ہیں، انہیں تم تک پہنچا دوں، نہ تو میں اپنی طرف سے کوئی بات کہتا ہوں اور نہ ہی اللہ کے پیغام میں کوئی کمی یا زیادتی کرتا ہوں۔ یہ پیغامات مختلف اوقات میں نازل ہوئے اور ان میں توحید، عبادت، اخلاق اور آخرت کی فکر جیسے مضامین شامل تھے۔
پھر فرمایا: "اور میں تمہارے لیے خیرخواہی کرتا ہوں" یعنی میری نیت تمہارے ساتھ خیر اور بھلائی کی ہے۔ نصح کا مطلب ہے کہ انسان دوسرے کے لیے وہی بھلائی چاہے جو اپنے لیے چاہتا ہے۔ میں تمہیں اللہ کے عذاب سے ڈراتا ہوں تاکہ تم اس سے بچ جاؤ، اور تمہیں اس کے ثواب کی خوشخبری دیتا ہوں تاکہ تم اس کی طرف راغب ہو جاؤ۔ میری یہ نصیحت محض تمہاری فلاح اور نجات کے لیے ہے، کوئی ذاتی غرض یا دنیاوی فائدہ اس میں شامل نہیں۔
اور فرمایا: "اور میں اللہ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے" یعنی اللہ تعالیٰ نے مجھے وحی کے ذریعے ایسے علوم اور حقائق سے آگاہ کیا ہے جو تمہاری عقل اور علم کی رسائی سے باہر ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ اللہ کا عذاب مجرموں سے ٹل نہیں سکتا، اور یہ کہ اس کی گرفت بہت سخت ہے۔ یہ علم مجھے اس لیے دیا گیا ہے تاکہ میں تمہیں اس سے بچانے کی کوشش کروں۔
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ داعیِ حق کی صفات یہ ہونی چاہئیں: امانت اور دیانت داری سے پیغامِ الٰہی پہنچانا، خیرخواہی اور شفقت سے لوگوں کو راہِ راست پر لانا، اور اللہ کے علم اور اس کی قدرت پر کامل یقین رکھنا۔ جب ہم کسی کو اللہ کی طرف بلائیں تو ہمیں چاہیے کہ ہمارا انداز محبت اور خیرخواہی کا ہو، نہ کہ تکبر اور برتری کا۔ نیز ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ کا علم وسیع ہے اور وہ ہمیں اپنی حکمت سے وہ باتیں سکھاتا ہے جو ہماری سمجھ سے باہر ہوتی ہیں، اس لیے ہمیں اپنے علم پر نازاں نہیں ہونا چاہیے بلکہ اللہ کے فضل کا شکر گزار ہونا چاہیے۔
یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی تک پہنچاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے دین کی سمجھ عطا فرمائے اور ہمیں اپنے بندوں کی خیرخواہی کرنے والا بنا دے۔ آمین۔
📜 آیت 60-64 — اعراف
ترجمہ — اعراف 62
سورہ آیت 62/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 60–64. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








