ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- تِلْكَ: یہ (رجعت یا واپسی)
- إِذًا: اس صورت میں، تب
- کَرَّةٌ: واپسی، پلٹنا
- خَاسِرَةٌ: نقصان والی، خسارے میں ڈالنے والی، باطل اور جھوٹی
تفسیر:
یہ آیت ان منکرینِ آخرت کا ردّ بیان کر رہی ہے جو بعثِ بعد الموت کو محال سمجھتے تھے۔ جب انہیں بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں دوبارہ زندہ کرے گا اور تم سے تمہارے اعمال کا حساب لے گا، تو وہ طنزاً کہنے لگے: "اگر ہم مرنے کے بعد پلٹائے گئے، تو یہ واپسی تو بڑی نقصان دہ ہوگی!" یعنی انہوں نے اس واپسی کو اپنے لیے خسارے سے تعبیر کیا، حالانکہ حقیقت میں یہ ان کے لیے سب سے بڑا خسارہ ہوگا جب وہ اپنے کفر و انکار کی سزا پائیں گے۔
یہ کہہ کر وہ قیامت کا مذاق اڑا رہے تھے، لیکن ان کی یہ بات خود انہی پر حرفِ آخر ثابت ہوگی۔ وہ سمجھتے تھے کہ اگر یہ بات سچ ہے تو ہم خسارے میں رہیں گے، مگر انہیں معلوم نہ تھا کہ اصل خسارہ تو ان کا ہوگا جب وہ اپنے رب کے سامنے پیش ہوں گے اور ان کے سارے اعمال ان پر ظاہر کر دیے جائیں گے۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں غور و فکر کی دعوت دیتی ہے۔ منکرینِ آخرت نے قیامت کو خسارہ سمجھا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ قیامت مومن کے لیے کامیابی اور نجات کا دن ہے، اور کافر کے لیے خسارے کا دن۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس دن کے لیے تیاری کریں، اپنے اعمال سنواریں، اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔ یاد رکھیں، جو لوگ آج قیامت کا مذاق اڑاتے ہیں، کل وہی سب سے زیادہ پشیمان ہوں گے۔ اللہ ہمیں سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین۔
📜 آیت 10-14 — نازعات
ترجمہ — نازعات 12
سورہ نازعات آیت 12 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : کہتے ہیں کہ یہ لوٹنا تو (موجب) زیاں ہےسورہ آیت 12/46 — نازعات النازعات (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نازعات سنیں, نازعات ترجمہ, نازعات mp3, نازعات pdf. آیت 10–14. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








