تاکہ سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کردے۔ گو مشرک ناخوش ہی ہوں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
لِيُحِقَّ الْحَقَّ: تا کہ وہ حق کو ثابت اور غالب کرے۔
وَيُبْطِلَ الْبَاطِلَ: اور باطل کو مٹا دے اور نیست و نابود کر دے۔
وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُونَ: چاہے مجرم (مشرک) اسے ناپسند ہی کریں۔
تفسیر:
یہ آیت اس عظیم حکمت اور مقصد کو بیان کرتی ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے بدر کے میدان میں مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ جنگ اس لیے مقدر فرمائی تھی تاکہ وہ حق (یعنی اسلام) کو ثابت اور غالب کرے، اور باطل (یعنی شرک اور کفر) کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے۔ یہ اللہ کا سنتِ الٰہیہ ہے کہ وہ اپنے دین کو سربلند کرتا ہے اور باطل کو ذلیل و رسوا کرتا ہے، چاہے مجرموں اور مشرکوں کو یہ کتنا ہی ناگوار گزرے۔
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ واضح فرما دیا کہ حق کی فتح اور باطل کی شکست اللہ کے وعدوں میں سے ہے، جو کبھی ٹل نہیں سکتی۔ چاہے دنیا کے سارے مجرم اور ظالم اس کے خلاف کیوں نہ ہو جائیں، اللہ کا فیصلہ غالب رہتا ہے۔ یہ اہلِ ایمان کے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے کہ ان کا رب ان کے ساتھ ہے، اور وہ انہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ حق کے ساتھ کھڑے رہنے والوں کو کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے، چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ حق کو غالب کرے گا اور باطل کو مٹا دے گا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں میں حق کو اپنائیں، باطل سے بچیں، اور یقین رکھیں کہ اللہ کی مدد ضرور آئے گی۔ یہی وہ ایمان ہے جو مسلمانوں کو طاقت دیتا ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جو دنیا و آخرت میں کامیابی تک پہنچاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حق پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
اور (اس وقت کو یاد کرو) جب خدا تم سے وعدہ کرتا تھا کہ (ابوسفیان اور ابوجہل کے) دو گروہوں میں سے ایک گروہ تمہارا (مسخر) ہوجائے گا۔ اور تم چاہتے تھے کہ جو قافلہ بے (شان و) شوکت (یعنی بے ہتھیار ہے) وہ تمہارے ہاتھ آجائے اور خدا چاہتا تھا کہ اپنے فرمان سے حق کو قائم رکھے اور کافروں کی جڑ کاٹ کر (پھینک) دے
جب تم اپنے پروردگار سے فریاد کرتے تھے تو اس نے تمہاری دعا قبول کرلی (اور فرمایا) کہ (تسلی رکھو) ہم ہزار فرشتوں سے جو ایک دوسرے کے پیچھے آتے جائیں گے تمہاری مدد کریں گے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔