ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- أَن جَاءَهُ: اس لیے کہ آیا تھا اس کے پاس
- الْأَعْمَىٰ: نابینا شخص (عبد اللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ)
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک نہایت ہی نازک انداز میں تنبیہ فرمائی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت قریش کے بڑے سرداروں کو دعوتِ اسلام دے رہے تھے، جن کے اسلام لانے سے امید تھی کہ بہت سے لوگ راہِ حق پر آئیں گے۔ اسی مصروفیت کے عالم میں حضرت عبد اللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ، جو نابینا تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: "یا رسول اللہ! مجھے قرآن کی کوئی آیت سکھائیے۔" انہیں معلوم نہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کسی اور اہم کام میں مشغول ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر اپنی توجہ ان کی طرف نہیں دی اور منہ پھیر لیا، کیونکہ آپ کے ذہن میں قریش کے سرداروں کے اسلام لانے کی امید تھی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں اور اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو اس انداز میں متوجہ کیا کہ آپ کے چہرے پر جو عبوس اور بے اعتنائی کا اثر ظاہر ہوا، اس پر اللہ نے نرمی سے گرفت فرمائی۔
یہ واقعہ ہمیں بہت سی عظیم تعلیمات دیتا ہے:
پہلی تعلیم: اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقام و مرتبہ کا معیار دنیاوی حیثیت نہیں بلکہ تقویٰ اور ایمان ہے۔ ایک نابینا صحابی جو سچے دل سے علم حاصل کرنا چاہتا تھا، وہ اللہ کے نزدیک ان سرداروں سے زیادہ محبوب تھا جن کی ہدایت کی امید تھی۔
دوسری تعلیم: یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن مجید اللہ کا کلام ہے، کیونکہ اگر یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا کلام ہوتا تو آپ اپنے آپ کو اس طرح تنبیہ نہ فرماتے۔ یہ آیت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی اور قرآن کے الٰہی ہونے کی بہترین شہادت ہے۔
تیسری تعلیم: اس واقعے سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں کبھی بھی کسی سائل اور طالب علم کو اس کی ظاہری حیثیت کی وجہ سے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ جو شخص سچے دل سے علم حاصل کرنے آئے، اسے عزت اور توجہ دینی چاہیے۔
چوتھی تعلیم: اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس موقع پر جو تنبیہ کی، وہ دراصل امت کے لیے ایک عظیم الشان درس ہے کہ دین کی تبلیغ میں کسی بھی مخلص طالبِ حق کو نظر انداز نہ کیا جائے، چاہے وہ کتنا ہی کمزور اور حقیر کیوں نہ ہو۔
یہ واقعہ ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس آیت کے نزول کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عبد اللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی بہت عزت کرتے تھے اور جب بھی وہ تشریف لاتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں خوش آمدید کہتے اور فرماتے: "خوش آمدید اس شخص کو جس کی وجہ سے میرے رب نے مجھے ملامت فرمائی۔"
یہ واقعہ ہمارے لیے ایک روشن مثال ہے کہ اسلام میں کسی بھی انسان کو اس کی سماجی حیثیت، دولت، یا ظاہری حسن کی بنیاد پر فوقیت حاصل نہیں، بلکہ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہو۔ آئیے ہم بھی اس تعلیم پر عمل کریں اور ہر انسان کے ساتھ عزت اور محبت کا سلوک کریں، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کے حال جانتا ہے اور ہمارے اعمال کا حساب لینے والا ہے۔
📜 آیت 1-4 — عبس
ترجمہ — عبس 2
سورہ عبس آیت 2 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : کہ ان کے پاس ایک نابینا آیاسورہ آیت 2/42 — عبس عبس (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: عبس سنیں, عبس ترجمہ, عبس mp3, عبس pdf. آیت 1–4. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








