Qul hal min shurakaaa `ikum mai yahdeee ilal haqq; qulil laahu yahdee lilhaqq; afamai yahdeee ilal haqqi ahaqqu ai yuttaba`a ammal laa yahiddeee illaaa ai yuhdaa famaa lakum kaifa tahkumoon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
پوچھو کہ بھلا تمہارے شریکوں میں کون ایسا ہے کہ حق کا رستہ دکھائے۔ کہہ دو کہ خدا ہی حق کا رستہ دکھاتا ہے۔ بھلا جو حق کا رستہ دکھائے وہ اس قابل ہے کہ اُس کی پیروی کی جائے یا وہ کہ جب تک کوئی اسے رستہ نہ بتائے رستہ نہ پائے۔ تو تم کو کیا ہوا ہے کیسا انصاف کرتے ہو؟
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
بگو: آيا از اين بتان شما كسى هست كه به حق راه نمايد؟ بگو: خدا به حق راه مىنمايد. آيا آن كه به حق راه مىنمايد به متابعت سزاوارتر است يا آن كه به حق راه نمىنمايد و خود نيز نيازمند هدايت است؟ شما را چه مىشود؟ چگونه حكم مىكنيد؟
پوچھو کہ بھلا تمہارے شریکوں میں کون ایسا ہے کہ حق کا رستہ دکھائے۔ کہہ دو کہ خدا ہی حق کا رستہ دکھاتا ہے۔ بھلا جو حق کا رستہ دکھائے وہ اس قابل ہے کہ اُس کی پیروی کی جائے یا وہ کہ جب تک کوئی اسے رستہ نہ بتائے رستہ نہ پائے۔ تو تم کو کیا ہوا ہے کیسا انصاف کرتے ہو؟
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ: حق کی طرف راہ دکھانے والا، ہدایت دینے والا۔
لَا يَهِدِّي: خود ہدایت نہ پانے والا، جو خود راہ نہ جانتا ہو۔
إِلَّا أَن يُهْدَىٰ: مگر یہ کہ اسے کوئی اور ہدایت دے، یعنی دوسروں کے سہارے پر چلنے والا۔
تَحْكُمُونَ: فیصلہ کرتے ہو، حکم لگاتے ہو۔
تفسیر:
اے نبی! آپ ان مشرکین سے پوچھیے جو اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہیں: کیا تمہارے ان شریکوں میں سے کوئی ایسا ہے جو حق کی طرف راہ دکھائے؟ وہ خود جانتے ہیں کہ ان کے بت، ان کے معبود، نہ کسی کو ہدایت دے سکتے ہیں اور نہ خود ہی کسی راستے پر چل سکتے ہیں۔ چنانچہ جب وہ اس کا اعتراف کر لیں، تو آپ فرمائیے: اللہ ہی ہے جو حق کی طرف ہدایت دیتا ہے، وہی بھٹکے ہوئے کو راہ دکھاتا ہے، وہی گمراہ کو سیدھے راستے پر لاتا ہے۔
اب آپ خود فیصلہ کریں: کون زیادہ حق دار ہے کہ اس کی پیروی کی جائے؟ وہ ذات جو خود حق کی طرف ہدایت دیتی ہے، یا وہ جو خود بھی ہدایت نہیں پاتی، بلکہ اسے دوسروں کے بھروسے پر چلنا پڑتا ہے؟ تمہارے یہ بت تو خود اپنی جگہ سے ہل نہیں سکتے، نہ کسی کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں، نہ نقصان سے بچا سکتے ہیں۔ پھر تم نے انہیں اللہ کا شریک کیسے بنا لیا؟ یہ کیسا فیصلہ ہے جو تم کر رہے ہو؟ عقلِ سلیم تو یہی کہتی ہے کہ جس کے پاس ہدایت دینے کی قدرت ہو، وہی اتباع کا مستحق ہے، نہ کہ وہ بےجان چیزیں جو خود کسی راہ پر نہیں چل سکتیں۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں غور و فکر کی دعوت دیتی ہے۔ انسان جب اپنے ارد گرد نظر دوڑاتا ہے تو دیکھتا ہے کہ اس کائنات کا نظام کس قدر منظم ہے، سورج اپنے مدار پر چلتا ہے، چاند اپنے وقت پر طلوع ہوتا ہے، بارشیں اپنے وقت پر ہوتی ہیں۔ یہ سب اس ذات کی ہدایت کا نتیجہ ہے جو ہر چیز کو راہ دکھاتی ہے۔ کیا یہ عقل کا تقاضا نہیں کہ ہم اسی ہدایت دینے والے کے آگے سر جھکائیں؟ کیا ہم ایسی ہستیوں کو اپنا رہنما بنائیں جو خود کسی کی محتاج ہیں؟ یقیناً اللہ ہی وہ ذات ہے جو ہمیں سیدھا راستہ دکھاتی ہے، اور اسی کی پیروی میں ہی ہماری دنیا و آخرت کی کامیابی ہے۔ آئیے ہم اپنے دل و دماغ کو کھولیں اور اس حقیقت کو پہچانیں کہ ہدایت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے، اور اسی کی طرف رجوع کرنا ہی ہمارے لیے بہترین ہے۔
(ان سے) پوچھو کہ بھلا تمھارے شریکوں میں سے کوئی ایسا ہے کہ مخلوق کو ابتداً پیدا کرے (اور) پھر اس کو دوبارہ بنائے؟ کہہ دو کہ خدا ہی پہلی بار پیدا کرتا ہے پھر وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا تو تم کہاں اُکسے جارہے ہو
پوچھو کہ بھلا تمہارے شریکوں میں کون ایسا ہے کہ حق کا رستہ دکھائے۔ کہہ دو کہ خدا ہی حق کا رستہ دکھاتا ہے۔ بھلا جو حق کا رستہ دکھائے وہ اس قابل ہے کہ اُس کی پیروی کی جائے یا وہ کہ جب تک کوئی اسے رستہ نہ بتائے رستہ نہ پائے۔ تو تم کو کیا ہوا ہے کیسا انصاف کرتے ہو؟
اور یہ قرآن ایسا نہیں کہ خدا کے سوا کوئی اس کو اپنی طرف سے بنا لائے۔ ہاں (ہاں یہ خدا کا کلام ہے) جو (کتابیں) اس سے پہلے (کی) ہیں۔ ان کی تصدیق کرتا ہے اور ان ہی کتابوں کی (اس میں) تفصیل ہے اس میں کچھ شک نہیں (کہ) یہ رب العالمین کی طرف سے (نازل ہوا) ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔