اور جو لوگ خدا پر افتراء کرتے ہیں وہ قیامت کے دن کی نسبت کیا خیال رکھتے ہیں؟ بےشک خدا لوگوں پر مہربان ہے لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
یفترون: جھوٹ گھڑنا، بہتان باندھنا۔
ذو فضل: بڑا فضل و کرم کرنے والا۔
لا یشکرون: شکر ادا نہیں کرتے۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں ان لوگوں سے پوچھ رہے ہیں جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں، یعنی حلال کو حرام اور حرام کو حلال قرار دیتے ہیں، یا اللہ کے نام پر جھوٹے دعوے کرتے ہیں۔ ان سے سوال ہے کہ آخر انہیں قیامت کے دن کیا توقع ہے؟ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ اللہ ان کے اس جرم کو معاف کر دے گا اور انہیں کوئی سزا نہیں دے گا؟ یہ ان کی نادانی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ڈھیل دی ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ انہیں چھوڑ دیں گے۔
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت مہربان اور فضل فرمانے والا ہے، وہ جلدی سزا نہیں دیتا، بلکہ توبہ کا موقع دیتا ہے، تاکہ لوگ راہِ راست پر آ جائیں۔ لیکن اکثر لوگ اس فضل و کرم کا شکر ادا نہیں کرتے، نہ ہی اسے پہچانتے ہیں۔ وہ اللہ کی نعمتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں، لیکن اس کے احسانات کا اعتراف نہیں کرتے اور نہ ہی اس کی اطاعت کرتے ہیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ انتہائی رحیم و کریم ہے، وہ اپنے بندوں پر فضل فرماتا ہے اور انہیں مہلت دیتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کے اس فضل کا شکر ادا کریں، اپنی زندگیوں کو اس کی رضا کے مطابق ڈھالیں، اور جھوٹ، بہتان اور افترا سے بچیں۔ اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے، لیکن اس کا عذاب بھی بہت سخت ہے، اس لیے ہمیں اپنے اعمال کا محاسبہ کرتے رہنا چاہیے اور اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ یاد رکھیں، اللہ کا فضل ہر مسلمان پر شامل ہے، لیکن شکرگزاری ہی وہ کلید ہے جو ہمیں مزید نعمتوں تک پہنچاتی ہے۔
کہو کہ بھلا دیکھو تو خدا نے تمھارے لئے جو رزق نازل فرمایا تو تم نے اس میں سے (بعض کو) حرام ٹھہرایا اور (بعض کو) حلال (ان سے) پوچھو کیا خدا نے تم کو اس کا حکم دیا ہے یا تم خدا پر افتراء کرتے ہو
اور تم جس حال میں ہوتے ہو یا قرآن میں کچھ پڑھتے ہو یا تم لوگ کوئی (اور) کام کرتے ہو جب اس میں مصروف ہوتے ہو ہم تمہارے سامنے ہوتے ہیں اور تمہارے پروردگار سے ذرہ برابر بھی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے نہ زمین میں نہ آسمان میں اور نہ کوئی چیز اس سے چھوٹی ہے یا بڑی مگر کتاب روشن میں (لکھی ہوئی) ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔