یوسف · 15/111
ترجمہ تلفظ — یوسف
فَلَمَّا ذَهَبُوا بِهِ وَأَجْمَعُوا أَن يَجْعَلُوهُ فِي غَيَابَتِ الْجُبِّ ۚ وَأَوْحَيْنَا إِلَيْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُم بِأَمْرِهِمْ هَٰذَا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ ۝١٥
Falammaa zahaboo bihee wa ajma`ooo anyyaj`aloohu fee ghayaabatil jubb; wa awyainaaa ilaihi latunabbi `annahum bi amrihim haaza wa hum laa yash`uroon
📖 اردو ترجمہ
غرض جب وہ اس کو لے گئے اور اس بات پر اتفاق کرلیا کہ اس کو گہرے کنویں میں ڈال دیں۔ تو ہم نے یوسف کی طرف وحی بھیجی کہ (ایک وقت ایسا آئے گا کہ) تم ان کے اس سلوک سے آگاہ کرو گے اور ان کو (اس وحی کی) کچھ خبر نہ ہوگی
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • غَيَابَةِ الْجُبِّ: کنویں کے اندر کا حصہ، یعنی کنویں کی تہہ یا اندھیرا حصہ۔
  • أَجْمَعُوا: انہوں نے پختہ عزم کر لیا، اتفاق کر لیا۔
  • لَتُنَبِّئَنَّهُم: تم ضرور انہیں خبر دو گے، آگاہ کرو گے۔
  • لَا يَشْعُرُونَ: وہ محسوس نہیں کریں گے، انہیں علم نہ ہوگا۔

تفسیر:

جب حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کے اصرار پر یوسف علیہ السلام کو ان کے ساتھ بھیجا، تو وہ اسے لے کر دور نکل گئے۔ پھر انہوں نے مل کر پختہ ارادہ کیا کہ یوسف کو کنویں کی تہہ میں ڈال دیں۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور اس بے گناہ نوجوان کو اندھیرے کنویں میں پھینک دیا۔

اس سخت ترین آزمائش کے لمحے میں، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی یوسف علیہ السلام پر خاص رحمت فرمائی اور انہیں وحی کے ذریعے تسلی دی کہ اے یوسف! تم عنقریب اس وقت تک زندہ رہو گے اور تمہاری شان و مرتبہ اتنی بلند ہوگی کہ تم اپنے ان بھائیوں کو اس ظلم کی یاد دلاؤ گے، اور وہ اس وقت تمہیں پہچان بھی نہیں سکیں گے، کیونکہ اللہ تمہیں اتنی عزت دے گا کہ تمہارا مقام ان سے بہت بلند ہوگا۔

یہ وحی یوسف علیہ السلام کے لیے صبر اور یقین کی تربیت تھی، تاکہ وہ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچ ہے اور وہ ان کے ساتھ ہے۔ یہاں سے یوسف علیہ السلام کی عظیم داستان کا آغاز ہوتا ہے، جو صبر، توکل اور حسنِ عاقبت کا سبق دیتی ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ جب انسان اللہ پر بھروسہ کرتا ہے اور مصیبتوں میں صبر کرتا ہے، تو اللہ اسے کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ یوسف علیہ السلام کو کنویں میں ڈالا گیا، لیکن اللہ نے انہیں وہیں سے نکال کر عزت دی۔ اسی طرح ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ مشکل وقت میں اللہ سے امید رکھے، کیونکہ اللہ کی مدد ضرور آتی ہے، چاہے وہ کتنی ہی دیر سے آئے۔ یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ظالم کبھی کامیاب نہیں ہوتا، اور اللہ اپنے مظلوم بندوں کی مدد ضرور فرماتا ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 13-17 — یوسف

13قَالَ إِنِّي لَيَحْزُنُنِي أَن تَذْهَبُوا بِهِ وَأَخَافُ أَن يَأْكُلَهُ الذِّئْبُ وَأَنتُمْ عَنْهُ غَافِلُونَ
انہوں نے کہا کہ یہ امر مجھے غمناک کئے دیتا ہے کہ تم اسے لے جاؤ (یعنی وہ مجھ سے جدا ہوجائے) اور مجھے یہ خوف بھی ہے کہ تم (کھیل میں) اس سے غافل ہوجاؤ اور اسے بھیڑیا کھا جائے
14قَالُوا لَئِنْ أَكَلَهُ الذِّئْبُ وَنَحْنُ عُصْبَةٌ إِنَّا إِذًا لَّخَاسِرُونَ
وہ کہنے لگے کہ اگر ہماری موجودگی میں کہ ہم ایک طاقتور جماعت ہیں، اسے بھیڑیا کھا گیا تو ہم بڑے نقصان میں پڑگئے
15فَلَمَّا ذَهَبُوا بِهِ وَأَجْمَعُوا أَن يَجْعَلُوهُ فِي غَيَابَتِ الْجُبِّ ۚ وَأَوْحَيْنَا إِلَيْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُم بِأَمْرِهِمْ هَٰذَا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ
غرض جب وہ اس کو لے گئے اور اس بات پر اتفاق کرلیا کہ اس کو گہرے کنویں میں ڈال دیں۔ تو ہم نے یوسف کی طرف وحی بھیجی کہ (ایک وقت ایسا آئے گا کہ) تم ان کے اس سلوک سے آگاہ کرو گے اور ان کو (اس وحی کی) کچھ خبر نہ ہوگی
16وَجَاءُوا أَبَاهُمْ عِشَاءً يَبْكُونَ
(یہ حرکت کرکے) وہ رات کے وقت باپ کے پاس روتے ہوئے آئے
17قَالُوا يَا أَبَانَا إِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَتَرَكْنَا يُوسُفَ عِندَ مَتَاعِنَا فَأَكَلَهُ الذِّئْبُ ۖ وَمَا أَنتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَلَوْ كُنَّا صَادِقِينَ
(اور) کہنے لگے کہ اباجان ہم تو دوڑنے اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے میں مصروف ہوگئے اور یوسف کو اپنے اسباب کے پاس چھوڑ گئے تو اسے بھیڑیا کھا گیا۔ اور آپ ہماری بات کو گو ہم سچ ہی کہتے ہوں باور نہیں کریں گے
یوسفقرآن فہرست
111آیت
مکیRevelation
15آیت

ترجمہ — یوسف 15

سورہ یوسف آیت 15 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : غرض جب وہ اس کو لے گئے اور اس بات…

سورہ آیت 15/111 — یوسف يوسف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: یوسف سنیں, یوسف ترجمہ, یوسف mp3, یوسف pdf. آیت 13–17. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں