خدا ہی اس بچے سے واقف ہے جو عورت کے پیٹ میں ہوتا ہے اور پیٹ کے سکڑنے اور بڑھنے سے بھی (واقف ہے) ۔ اور ہر چیز کا اس کے ہاں ایک اندازہ مقرر ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
اللہ تعالیٰ ہر اس چیز کو جانتا ہے جو ہر ماں کے پیٹ میں پرورش پا رہی ہو، خواہ وہ لڑکا ہو یا لڑکی، کامل ہو یا ناقص، سفید ہو یا سیاہ، ایک ہو یا دو یا اس سے زیادہ۔ وہ ان چیزوں کو بھی جانتا ہے جو رحمِ مادر میں کمی یا زیادتی کے ساتھ رونما ہوتی ہیں۔ کمی سے مراد یہ ہے کہ بچہ نو ماہ سے پہلے پیدا ہو جائے یا حمل ساقط ہو جائے، اور زیادتی سے مراد یہ ہے کہ حمل نو ماہ سے زیادہ عرصہ رحم میں رہے۔ اللہ تعالیٰ کو بچے کی صحت و بیماری، اس کی شکل و صورت اور اس کی تقدیر کے تمام پہلوؤں کا مکمل علم ہے۔ اور ہر چیز اس کے علم اور حکمت کے مطابق ایک مقررہ اندازے اور پیمانے پر ہے، نہ اس میں کمی ہو سکتی ہے نہ زیادتی۔
یہ آیت مبارکہ ہمیں اللہ تعالیٰ کے کامل علم اور اس کی حکمت پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ جب ہم یہ جان لیں کہ اللہ تعالیٰ کو ہماری زندگی کے چھوٹے سے چھوٹے معاملے کا بھی علم ہے، حتیٰ کہ وہ بھی جو ماں کے رحم میں پوشیدہ ہے، تو ہمارے دلوں میں اللہ کی عظمت اور اس کی قدرت کا احساس مزید بڑھ جاتا ہے۔ یہ علم ہمیں اس بات پر مطمئن کرتا ہے کہ ہماری زندگی کا ہر لمحہ اللہ کے علم اور اس کی نگرانی میں ہے، اور جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ اس کی حکمت اور مشیت سے ہوتا ہے۔ اس لیے ہمیں اپنے معاملات میں اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے اور اس کی رضا پر راضی رہنا چاہیے۔ یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ اللہ کا علم انتہائی مکمل اور جامع ہے، اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں، اس لیے ہمیں اپنے اعمال میں احتیاط برتنی چاہیے اور یاد رکھنا چاہیے کہ ہم ہر وقت اللہ کی نظر میں ہیں۔ یہ ایمان ہمارے دلوں کو سکون بخشتا ہے اور ہمیں نیکی کی طرف راغب کرتا ہے۔
اور یہ لوگ بھلائی سے پہلے تم سے برائی کے جلد خواستگار یعنی (طالب عذاب) ہیں حالانکہ ان سے پہلے عذاب (واقع) ہوچکے ہیں اور تمہارا پروردگار لوگوں کو باوجود ان کی بےانصافیوں کے معاف کرنے والا ہے۔ اور بےشک تمہارا پروردگار سخت عذاب دینے والا ہے
اور کافر لوگ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) پر اس کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی نازل نہیں ہوئی۔ سو (اے محمدﷺ) تم تو صرف ہدایت کرنے والے ہو اور ہر ایک قوم کے لیے رہنما ہوا کرتا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔